12ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) عراق میں سرکاری فوج کے میڈیا سیل کے ایک اعلان کے مطابق سامراء ڈسٹرکٹ میں داعش تنظیم کے 4 کمانڈروں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔جمعے کے روز جاری بیان میں بتایا گیا کہ عراقی فوج کی مشترکہ فورس گھات لگا کر دہشت گرد تنظیم داعش کے 4 اہم کمانڈروں کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ سامراء ڈسٹرکٹ کے علاقے الفرحاتیہ میں مارے جانے والے ان افراد میں سے دو نے باردی بیلٹ باندھی ہوئی تھی۔ اس سے قبل جمعرات کے روز عراقی فورسز نے صلاح الدین صوبے کے شہر الشرقاط میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران داعش تنظیم کا ایک کمانڈر گرفتار کر لیا تھا۔ عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلح افواج کے سربراہ کے ترجمان نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے ادارے نے جمعرات کو علی الصبح الشرقاط میں ایک خفیہ آپریشن کیا۔ آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم داعش کی ٹولیوں کے ایک کمانڈر کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ ادھر میسان صوبے میں السلام اور العدل کے علاقوں میں عراقی ریپڈ فورس نے سرچ آپریشنز کے دوران مختلف تعداد اور مقدار میں ہتھیار اور مواد برآمد کر لیا۔ دوسری جانب مشترکہ آپریشنز کی کمان نے دریائے دیالیٰ کے اطراف علاقوں کو کلیئر کرانے کے لیے ایک سیکورٹی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا۔ کمان نے بتایا کہ یہ کارروائی بری فوج کے کمانڈر کے زیر قیادت الحشد الشعبی ملیشیا کے تعاون سے شروع کی گئی۔ سیکورٹی میڈیا سیل کے مطابق المفرق کے علاقے میں دیالی پولیس کے ایک افسر کی گاڑی میں نصب کیا گیا دھماکا خیز مواد پھٹ گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کے روز مشترکہ آپریشنز کمان کے ترجمان میجر جنرل تحسین الخفاجی کے حوالے سے بتایا کہ مشترکہ آپریشنز کی کمان نے بغداد اور بصرہ میں سیکورٹی کارروائیاں کی ہیں۔ الخفاجی کے مطابق سیکورٹی کارروائیوں کا مقصد ہتھیاروں کو ریاست کے ہاتھوں تک محدود کرنا اور ریاست اور قانون کی رِٹ دائر کرنا ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عراقی فوج اور انسداد دہشت گردی کی فورس ملک کے وسطی اور جنوبی صوبوں میں وسیع پیمانے پر عسکری آپریشن انجام دے رہی ہیں۔ ان آپریشنز کا مقصد غیر لائسنس یافتہ ہتھیاروں کو برآمد کرنا اور قانون کے دائرے سے باہر افراد کو گرفتار کرنا ہے۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here