جازان کو ‘فل’ کی کاشت کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ ‘فل’ سے نہ صرف پھول حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ اس سے عطریات، صابن، حتیٰ کہ چائے اور دیگر مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

09ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سعودی عرب کے جنوبی علاقوں بالخصوص جازان میں عربی گل یاسمین کی کاشت مقامی آبادی کا پسندیدہ زرعی مشغلہ ہے۔ کثیرالمقاصد ‘گل یاسمین’ کی کاشت کا سیزن دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان میں اس کی بڑے پیمانے پر کاشت کی جا رہی ہے۔ عربی یاسمین پودے کو کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سال بھر تازہ رہنے والے اس پودے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا عطر بیز پھول ہے جسے سماجی، سرکاری اور نجی تقریبات میں بہ کثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ جازان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس کی کاشت سے جڑا ہوا ہے اور اسے ذریعہ معاش کے طور پر اپنائے ہوئے ہے۔ مقامی سطح‌ پر اس پودے کو ‘فُل’ کا نام دیا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں یہ پودا 10 ماہ تک کاشت کیا جاتا ہے۔ جازان کو ‘فل’ کی کاشت کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ ‘فل’ سے نہ صرف پھول حاصل کیے جاتے ہیں بلکہ اس سے عطریات، صابن، حتیٰ کہ چائے اور دیگر مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض حکیم اس پودے کے پتوں کو مختلف ہربل ادویات کی تیاری میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس بار سعودی عرب کی وزارت زراعت نے ‘فل’ کی کاشت پر زیادہ توجہ دی ہے اور ‘فل’ کی کاشت کے لیے ‘الواعد’ نامی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام مملکت کی تعمیرو ترقی کے پروگرام ‘ویژن 2030’ کے اہداف کا حصہ ہے۔ محکمہ زراعت نے جدید خطوط پر فل کی کاشت شروع کی ہے۔ مقامی کسانوں کو اس کی کاشت کے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات اور سہولیات دی جا رہی ہیں۔ جازان میں سیکرٹری زراعت و آبی وسائل انجینیر احمد صالح العیادہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ جازان میں ‘گل یاسمین’ کی کاشت کے لیے 20 ملین ریال کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ فل کی کاشت کو زیادہ موثر بنانے کے لیے آب پاشی کا نظام بہتر بنایاگیا ہے اور ایک دن میں 74 ہزار کیوبک میٹر رقبے کو سیراب کرنے کی اسکیم تیار کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘فل’ کو سعودی عرب کی چھ دوسرے گورنریوں صبیا، ابو عریش، الطوال میں‌ بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کی کاشت کے لیے 1325 ایکڑ رقبہ مختص ہے جس میں 1126100 درخت اگائے جا سکتے ہیں۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here