09ستمبر 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) جوہری طاقتوں سے لیس دنیا کی کثیر آبادی والے دو پڑوسی ممالک ہندوستان اور چین ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور ان ممالک کے آپسی تنازعات کی ایک لمبی تاریخ ہے جن میں کبھی کبھار سلگتی آگ میں چنگاریاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں اور شعلے بھی بھڑک اُٹھتے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کی سرحد میں کئی مقامات متنازع ہیں۔ ان تنازعات کے سبب ان دونوں ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی دستے کی چھ دہائیوں سے اکثر مُڈھ بھیڑ ہوتی رہی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ سنہ 1962 میں ان دو ہمسائے ممالک کے درمیان ایک ماہ طویل جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں ہمارے ملک ہندوستان کو شکست وریخت سے دو چار ہونا پڑا تھا چین نے ہندوستان کے کئی ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور ایک ہزار مستعد فوجی جوانوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ تقریباً تین ہزار جوانوں کو جنگی قیدی بنالیا گیا تھا اس خون آشام جنگ میں چین کے بھی 800 فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔ امریکی تجزیہ کار بروس راییڈل کے مطابق چین کے ساتھ انڈیا کی جنگ میں امریکہ بھی فعال و متحرک ہو گیا تھا۔ بہرحال بعد میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کی گئیں اور متعدد مذاکرات ومعاہدات کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا لیکن تنازعہ ختم نہیں ہوا اب بھی متنازع سرحد پر دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی اور پہاڑی علاقے کی وجہ سے تنازعے کی فضا برقرار رہتی ہے ہندوستان کے وہ سرحدی علاقے جو چین سے ملتے ہیں جسے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کہا جاتا ہے۔ اس جگہ کئی علاقے دونوں ملکوں کے درمیان متنازع ہیں۔ 2020 میں ہونے والی حالیہ فوجی جھڑپ میں ہمارے ملک کے 20 بہادر جوان شہید ہوئے یہ فوجی تصادم تین مقامات پر ہوئے ہیں جن میں ایک ’وادی گلوان‘ہے، دوسرا ’ہاٹ سپرنگ‘نامی خطہ ہے اور تیسرا علاقہ ’پینگونگ‘نامی جھیل کے جنوب میں ہے۔ یہ تینوں علاقے لداخ میں واقع ہیں۔ موجودہ کشیدگی صرف لداخ کے علاقوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ریاست سِکّم کے شمال مشرقی علاقے ناتھولا میں بھی فوجی حالتِ جنگ میں آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ حالیہ تصادم کی ایک بنیادی وجہ بتاتے ہوئے ہندوستان کے دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا نے ایک نیوز ایجنسی کو بتایا کہ’ماضی میں عموماً پر امن رہنے والا غلام رسول گالوان کے نام سے منسوب گلوان کا علاقہ اب جنگ کا خطہ بن گیا ہے، کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جو لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے سب سے قریب ہے اور جہاں ہندوستان نے دریائے شیوک سے لے کر دولت بیگ اولڈی تک ایک نئی سڑک بنائی ہے، جو کہ لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا سب سے زیادہ حساس علاقہ ہے۔ سنہ 1962 کی جنگ کے بعد بھی ہندوستان اور چین کے درمیان متعدد سرحدی تصادم ہوئے ہیں۔ سنہ 1967 میں سِکم کے علاقے میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دو واقعات ہوئے۔ پہلا ناتھولا کا واقعہ کہلاتا ہے جبکہ دوسرا چھولا کا واقعہ ہے،جس میں چینی فوج کو سِکّم سے پسپا ہونا پڑا تھا۔اس کے بعد کافی عرصے تک اس مقام پر کشیدگی جاری رہی اور بالآخر سنہ 1975 میں ہندوستان نے خود مختار ریاست سکم کا انڈیا سے الحاق کر لیا۔سنہ 1987 میں چین اور انڈیا کے درمیان فوجی جھڑپ کے دوران دونوں جانب سے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا گیا اس طرح اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔تاہم حالیہ تصادم سے پہلے سنہ 2017 میں کئی ہندوستانی فوجی اس وقت زخمی ہوئے تھے، جب دونوں ملکوں کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہو گئی تھیں. دراصل بھارت اور چین کے درمیان الگ الگ علاقوں پر ملکیت کا تنازعہ چلا آرہا ہے جو کشیدگی کا باعث بنتا ہے پہلا اکسائی چن علاقہ کیا بھارتی ریاست جموں و کشمیر میں واقع ہے یا چین کے صوبے سنکیانگ کے مغرب میں واقع ہے؟ (اکسائی چن سنکیانگ-تبت شاہراہ پر اعلی اونچائی پر واقع غیر آباد اور بنجر زمین ہے)
دوسرا تنازع میکموہن لائن کا جنوبی علاقہ ہے۔ اس کا سابقہ برطانوی دور کا نام شمال- مشرقی سرحدی ایجنسی تھا جسے اب اروناچل پردیش کہا جاتا ہے۔میکموہن لائن برطانیہ اور تبت کے درمیان 1914ء میں ہونے والے شملا کنونشن کا حصہ تھا، جبکہ چین نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔1962ء میں ہونے والی ہند چین جنگ انہیں دونوں علاقوں کے لیے تھی۔ 1996ء میں تنازعات کو حل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کیا گیا تھا، جس میں “اعتماد سازی اقدامات” اور ایک باہمی متفق بھارت چین سرحد شامل ہیں۔ 2006ء میں بھارت میں چین کے سفیر نے دعویٰ کیا تھا کہ تمام اروناچل پردیش چینی علاقہ ہے۔اس وقت دونوں ملکوں نے سکم کے شمالی کنارے پر ایک کلومیٹر کے علاقے کو دوسرے ملک کی دراندازی قرار دیاتھا 2009ئمیں بھارت نے اعلان کیا کہ وہ سرحد کے ساتھ اضافی افواج تعینات کرے گا۔2014ء میں بھارت نے تجویز دی کہ چین کو سرحدی تنازعات کو حل کرنے کے لئے “ایک بھارت” پالیسی تسلیم کرنا چاہئے بہرحال ان تمام تنازعات اور وقتاً فوقتاً کشیدگی کے باوجود یہ بات واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ان علاقائی تنازعات کو طے کرنے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان سرحدی تنازعات کو طے کرنے کے لیے 21ویں صدی میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان 22 سے زائد مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن باوجود اس کے معاملہ اب مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔اس لئے کہ جو بالا سطور میں ذکر کیا گیا کہ کوہ ہمالیہ کے سلسلے کے پار انڈیا کے شمال مشرقی حصے کی جانب لداخ کے شمال مشرق میں واقع اکسائی چِن نامی خطہ جس کا رقبہ 35 ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ یہ خطہ اس وقت چین کے زیرِ انتظام ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ خطہ چین کے خود مختار صوبے سنکیانگ کا ایک اٹوٹ حصہ ہے اس لیے یہ خطہ ہمارا ہے دوسری طرف ہندوستان اس خطے کو اپنے زیرِ انتظام لداخ کی یونین ٹیریٹوری کا اہم حصہ قرار دیتا ہے لداخ
جموں و کشمیر کا دور افتادہ اور پسماندہ وہ خطہ ہے جہاں اس وقت چینی اور ہندوستانی فوجیں برسرپیکار ہیں ایک صدی قبل تک یہ علاقہ خاصا متمول اور متحدہ ہندوستان، تبت، چین، ترکستان و وسط ایشیاء کی ایک اہم گزرگاہ ہواکرتا تھا خوبصورت ارضیاتی خدو خال، حد نگاہ تک رنگ برنگے اونچے ننگے پہاڑ، بنجر اور ویران لمبے چوڑے میدان،اس خطے کو خاصی حد تک پاکستانی صوبہ بلوچستان سے مماثلت کرواتے ہیں۔ پچھلے سال اگست میں ہندوستان نے اس خطہ کو جموں و کشمیرسے الگ کرکے ایک علیحدہ مرکز کے زیر انتظام خطہ بنادیاہے دو ضلعوں لیہہ اور کرگل پر مشتمل اس خطہ کا رقبہ نقشے کے اعتبار سے 97872مربع کلومیٹر ہے۔ مگر اکسائی چن علاقہ کے چین کے زیر تصرف ہونے کی وجہ سے اصل رقبہ صرف 58321مربع کلومیٹر ہی ہے۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق اس خطے کی دو لاکھ 74ہزار کی آبادی میں 46.40فیصد مسلمان اور 39.65 فیصد بدھ مت کے پیروکار ہیں۔

محمد ہاشم اعظمی مصباحی

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here