14 اگست 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) امریکی اخبار “وال اسٹریٹ جرنل” نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پہلی مرتبہ 4 ایرانی بحری جہازوں کو ضبط کر لیا ہے جو وینزویلا کے لیے ایندھن لے کر جا رہے تھے۔ ان جہازوں کو پابندیوں کی خلاف ورزی کے سبب پکڑا گیا ہے تا کہ تہران پر انتہائی دباؤ کی مہم کو بھرپور بنایا جا سکے گا۔ ذمے داران کے مطابق ان چار جہازوں کے نام Bering, Bella, Luna اور Pandi ہیں اور انہیں گذشتہ چند روز کے دوران پکڑا گیا۔ اب ان تمام جہازوں کو امریکا کے شہر ہیوسٹن روانہ کر دیا گیا ہے جہاں وائٹ ہاؤس کے ذمے داران ان کے پہنچنے کے منتظر ہیں۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ امریکی وفاقی عدالت میں دعوی دائر کیا گیا تھا کہ وینزویلا کی جانب گامزن ایران کا ایندھن لے جانے والے چار بحری جہازوں کو قبضے میں لیا جائے۔ ایک امریکی ذمے دار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ان تمام جہازوں کو عسکری طاقت کے استعمال کے بغیر ہی قبضے میں لے لیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ گذشتہ برس امریکا نے ایک ایرانی آئل ٹینکر پر کنٹرول کے لیے عدالتی تعاون کے سمجھوتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ جہاز Grace 1 برطانیہ کے زیر انتظام جبل طارق کے ریجن میں زیر حراست تھا۔ واشنگٹن کی وفاقی عدالت کے جج نے گذشتہ ہفتے اپنے فیصلے میں امریکا کو اختیار دیا تھا کہ وہ اس جہاز کی سرزنش کے لیے اقدام کرے۔ امریکی حکومت کی جانب سے دائر کیے گئے دعوے میں کہا گیا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب (جس کو امریکا ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے) سے متعلق ایک ایرانی کاروباری شخصیت نے ایندھن کی کھیپ کے انتظامی امور انجام دیے۔ یہ کام فرضی کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے کیا گیا تا کہ اس کے انکشاف سے بچ کر امریکی پابندیوں سے راہ فرار اختیار کی جا سکے۔ یہ اقدام امریکا کی جانب سے ایران اور اس کے حلیف وینزویلا کے خلاف تدابیر کی تازہ ترین کڑی ہے۔ اس کا مقصد امریکی مطالبات کی تکمیل کے واسطے تہران اور کراکس حکومتوں پر دباؤ کی کارروائی کو وسیع کرنا ہے

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here