14 اگست 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) افغانستان میں حکام نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے 400 قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ فریقین کے بیچ امن مذاکرات کے آغاز کے لیے بنیادی شرط ہے۔افغان قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے بتایا کہ 80 کے قریب قیدیوں کے ایک گروپ کو جمعرات کے روز رہا کیا گیا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اس عمل سے براہ راست بات چیت اور قومی سطح پر مستقل فائر بندی کی کوششیں تیز کی جا سکیں گی۔ افغان لویا جرگہ نے اتوار کے روز مذکورہ 400 قیدیوں کی رہائی شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔ افغان صدر اشرف غنی نے پیر کے روز ایک آرڈیننس پر دستخط کیے تھے جس میں ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کہا گیا ہے۔ کابل تقریبا پانچ ہزار طالبان عناصر کو رہا کر چکا ہے تاہم افغان حکام نے ان میں شامل آخری 400 قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے واشنگٹن میں امریکی آئیڈیالوجی سینٹر کی جانب سے منعقد کی گئی ایک وڈیو کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ “متعدد سخت جان مجرموں اور منشیات کے اسمگلروں کی رہائی غالبا ہمارے، امریکا اور دنیا کے لیے خطرہ ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کی قیمت ہوتی ہے اور ان لوگوں کو رہا کر کے ہم اس قیمت کا بڑا حصہ چکا رہے ہیں۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here