جموں و کشمیر میں 4G کی بحالی کے حوالہ سے دائر کی گئی عرضی پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت ’جموں‘ اور ’کشمیر‘ کے ایک ایک ضلع میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس ’آزمائش کے طور پر‘ بحال کرنے کو تیار ہو گئی

نئی دہلی:11 اگست 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  جموں اور وادی کشمیر کے ایک ایک ضلع میں آزمائش (ٹرائل) کے طور پر 15 اگست کے بعد 4G انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی۔ سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر میں 4G انٹرنیٹ کی بحالی کے حوالہ سے دائر کی گئی عرضی پر منگل کے روز سماعت کے دوران مرکزی حکومت جموں اور کشمیر کے ایک ایک ضلع میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس آزمائش کے طور پر بحال کرنے کو تیار ہو گئی۔ یہ سہولت جموں اور وادی کشمیر کے ایک ایک ضلع میں 15 اگست کے بعد کی جائے گی اور پھر دو مہینے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے سپریم کورٹ میں کہا کہ اضافی حلف نامہ دائر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سماعت کے دوران کہا کہ اس معاملہ پر خصوصی کمیٹی نے 10 اگست کو تیسری میٹنگ کی تھی۔ جموں و کشمیر میں مقامی ایجنسیوں کے ساتھ غور و غوض کیا گیا ہے۔ سرحدی سلامتی کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے تمام متبادل پر غور کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا خیال ہے کہ ’’جموں و کشمیر میں خطرہ لگاتار بنا ہوا ہے اور انٹرنیٹ بین کووڈ کے خلاف جنگ، تعلیمی یا کاروباری سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کر رہا ہے۔ موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے تاحال موبائل فون کے لئے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے یہ معقول وقت نہیں ہے۔‘‘ خیال رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر کوئی امکان ہے تو اسے بحال کیا جانا چاہئے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا، ’’مرکز اور جموں و کشمیر کی حکومت یہ جانچ کرے کہ کیا ایسے علاقے ہیں جن میں 4G سروس بحال ہو سکتی ہے!‘‘ سپریم کورٹ نے مزید کہا تھا کہ اس معاملہ میں اور تاخیر نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے مرکز اور جموں و کشمیر انتظامیہ کو اس معاملہ پر حتمی جواب کے ساتھ آنے کی ہدایت دی تھی۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here