جج مہندر کمار ترپاٹھی اور ان کے نوجوان بیٹے ابھینے راج مونو کی موت فوڈ پوائزننگ سے نہیں بلکہ زہر سے ہوئی ہے۔ قتل کی سازش میں شامل ہونے کی شک میں ایک خاتون سمیت پانچ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

29جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) مدھیہ پردیش میں بیتول ضلع کے ایڈیشنل ضلع اینڈ سیشن جج مہندر کمار ترپاٹھی اور ان کے نوجوان بیٹے ابھینے راج مونو کی موت فوڈ پوائزننگ سے نہیں ہوئی بلکہ زہر کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس بات کا انکشاف ہونے کے بعد ایک خاتون پر شک کیا جا رہا ہے۔ خبروں کے مطابق اس خاتون سمیت پانچ لوگوں کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ان میں سے ایک تانترک بھی ہے۔قابل ذکر ہے کہ 50 سالہ اے ڈی جے مہندر کمار ترپاٹھی اور ان کے بیٹے 25 سالہ ابھینے راج کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی تھی۔ شارٹ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ دونوں کی موت کی وجہ فوڈ پوائزننگ نہیں بلکہ زہر ہے۔ یہ زہر کھانے کی روٹیوں میں ملا ہوا تھا۔ زہر کون سا تھا، اس کی جانچ کے لیے آٹے کو ریاستی سطح کے فوڈ ٹیسٹنگ تجربہ گاہ میں بھیجا گیا ہے۔ اس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی اس بات کا پتہ چل سکے گا کہ آخر کس طرح کا زہر جج اور ان کے بیٹے کو مارنے کے لیے استعمال کیا گیا۔بیتول کی پولس سپرنٹنڈنٹ سمالا پرساد نے اس قتل معاملہ سے متعلق نامہ نگاروں کو بتایا کہ اے ڈی جے اور ان کے بیٹے کی موت زہر کی وجہ سے ہوئی ہے جس کی تصدیق شارٹ پی ایم رپورٹ سے ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور ایک خاتون سمیت پانچ لوگوں کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔جج ترپاٹھی کے ایک دیگر بیٹے آشیش راج ترپاتھی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سندھیا سنگھ اس کے والد سے گزشتہ 10 سالوں سے رابطے میں تھیں۔ اس خاتون نے ہی قوت مدافعت بڑھانے کے لیے والد کو ایک پاؤڈر دیا تھا۔ ساتھ ہی آٹا بھی سندھیا سنگھ لے کر آئی تھی۔ آشیش کے مطابق اس کے والد نے پاڈر اسپتال جاتے وقت اسے سندھیا سنگھ کے ذریعہ پاؤڈر اور آٹا دینے کی بات بتائی تھی۔ پاؤڈر کو آٹے میں ملا کر بنائی گئی روٹیاں کھانے سے والد سمیت دونوں بھائی کی حالت بگڑی تھی۔پولس نے ریوا اور چھندواڑا سے ایک خاتون سمیت پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ شروعاتی پوچھ تاچھ میں پتہ چلا ہے کہ خاتون ترپاٹھی کے رابطے میں تھی اور اس نے ایک پڑیہ میں کوئی چیز بھیجی تھی۔ اس چیز کو آٹے میں ملا کر کھانے کو کہا گیا تھا۔ خاتون ایک این جی او چلاتی ہے اور ترپاٹھی کو ان کا مسئلہ سلجھانے کے لیے تنتر-منتر اور پوجا پاٹھ کا مشورہ دیتی رہتی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولس کے ذریعہ حراست میں لی گئی خاتون کی کار برآمد کی گئی ہے اور اس میں رکھے بیگ کو ضبط کر کے تلاشی بھی لی گئی۔ کار میں رکھے پرس میں سے پولس کو تنتر-منتر کی چیزیں اور کچھ پڑیہ بھی ملی ہیں۔ حراست میں لیے گئے پانچ لوگوں میں ایک تانترک بھی ہے۔ اے ڈی جے اور ان کے بیٹے کی مشتبہ موت کے معاملے میں تانترک عمل اور زہریلی اشیاء کھلا کر قتل کرنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ باپ-بیٹے اور فیملی کے کچھ دیگر ارکان نے 20 جولائی کو رات میں کھانا کھایا تھا۔ اس کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ مجسٹریٹ اور ان کے دو بیٹوں نے چپاتی کھائی تھی جب کہ بیوی نے چپاتی نہیں بلکہ چاول کھایا تھا۔ ایک بیٹے کی طبیعت بعد میں بہتر ہو گئی تھی، لیکن ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here