حافظؔ کرناٹکی

25جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس)  دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے ہونے سے کئی لوگوں کے ہونے کا احساس ہوتا ہے، اپنے آس پاس کی دنیامیں محض ان کی موجود گی کی وجہ سے ایک خاص طرح کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ایک دن جب وہ چپکے سے گذرجاتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہماری دنیا میں روشنی کم ہوگئی ہے۔ ایک طرح کی بے اطمینانی پھیل گئی ہے۔ ایک خلاپیدا ہوگیا ہے جو کسی بھی طرح پرہونے کا نام نہیں لیتاہے۔ ایسی ہی شخصیت تھی جناب مظفرکولامرحوم کی۔ مظفرکولا یوں تو بھٹکل کے رہنے والے تھے مگر اپنی دولت اور خدمت کرنے کے جذبے کی وجہ سے اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ ساری دنیا کے باشندہ نظر آتے تھے۔ بھٹکل ریاست کرناٹک کا ایک قصبہ ہے، یہ ہندوستان کے ان مشہور ومعروف قصبوں میں سے ایک ہے جو اپنے ضلع تو کیا اپنی ریاستوں سے بھی زیادہ شہرت رکھتا ہے۔ بھٹکل اپنے دینی ماحول اور دینی وضع قطع اور تہذیب کے لیے مشہور ہے۔ سچ پوچھیے تو اس قصبے کی شہرت میں اس کے دینی ماحول کا جتنااہم کردار ہے تقریباً اتناہی اہم کردار اس قصبہ کے لوگوں کی خوشحالی کا بھی ہے۔ اسی سرزمین پرمظفرکولا مرحوم نے آنکھیں کھولیں۔ زندگی کے سردوگرم کا سامناکیا اور اپنی لگن، محنت اور تقدیرکی یاوری کی بدولت ایک بڑے تاجر کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ چوں کہ بھٹکل کے دینی ماحول میں انہوں نے تربیت پائی تھی اور اپنی کھلی آنکھوں سے عالموں، حافظوں اور خطیبوں کی قدردانی دیکھی تھی۔ دینی مدارس کی عظمت کو محسوس کیا تھا اس لیے ان کے مزاج میں یہ بات رچ بس گئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا اپنی زندگی کا مقصد بنالیا۔ مدارس کی تعمیر ہوکہ مساجد کی تعمیر، علما کی خدمت ہو کہ طلبا کی خدمت یا پھر غربا، مساکین اور یتیموں اور بیوؤں کی خدمت وہ ہرمعاملے میں دل کھول کرحصہ لیتے تھے۔ ان کی دولت و ثروت اور ان کی سخاوت کا شہرہ عام تھا۔ اس لیے ان کے گرد ایسے لوگوں کی چہل پہل بہت بڑھ گئی تھی جو کسی نہ کسی طور پر اپنے آپ کو دین کے خدمت گار سمجھتے تھے۔ مظفر کولامرحوم نے چوں کہ جس ماحول میں پرورش پائی تھی اس میں انہوں نے بہت قریب سے یہ دیکھا اور محسوس کیا تھا کہ دراصل آدمی کو دین کی خدمت سے ہی عزت ملتی ہے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی دنوں میں جب وہ غربت سے جنگ لڑ رہے تھے اس بات کو یقینا شدّت سے محسوس کیا ہوگاکہ بھٹکل کے دینی ماحول میں عزت حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان مدارس و مکاتب سے اور مساجد سے خاص تعلق رکھتا ہو چنانچہ انہوں نے اپنے اچھے دنوں میں سب سے زیادہ توجہ انہیں کاموں پر دی۔ بڑے بڑے مدارس کو مالی تعاون دیا۔ بڑے بڑے علما کی خدمت کی۔ ہر طرح کے دینی اور علمی کاموں کے لیے کھلے دل کا مظاہرہ کیا۔ ملّت کے لیے خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگوں اور ملّت کی سربلندی کے لیے کام کرنے والی انجمنوں، ٹرسٹوں اور تنظیموں کو مالی امداد فراہم کی، اہم اداروں اور ٹرسٹوں کے ذمہ داروں کو عرب، کویت، دوبئی کے مخیر لوگوں اور اداروں سے متعارف کرایا۔ اس طرح وہ مدارس و مکاتب اور مساجد کی تعمیرکے کاموں میں دلچسپی لینے والے لوگوں اور بیرون ملک کی پیسہ دینے والی تنظیموں کے درمیان کی مضبوط کڑی بن گئے۔وہ بہت سارے اداروں سے وابستہ تھے اور بہت سارے تعلیمی اداروں کے بہی خواہ تھے، ان کی شخصیت کی ایک انفرادی خوبی یہ تھی کہ وہ ندوۃ العلما لکھنؤ سے بہت قریب تھے تو قلبی اعتبار سے دارالعلوم دیوبندسے بھی وابستہ تھے۔ ایک طرف ندوہ کے بڑے بڑے علما ان کے مکان ”باغ رحمت“ کی زینت میں اضافہ کرنے کے لیے تشریف لاتے تھے۔ تودوسری طرف مظفرکولا مرحوم اہل دیوبند کی دل سے قدر کرتے تھے۔ انہیں دینی کتابوں کے مطالعے کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ دینی کتابیں تلاش تلاش کرپڑھتے۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتابیں وہ بہت شوق سے پڑھتے تھے۔ اگر کوئی کتاب انہیں بہت پسندآتی تھی تو وہ مجھے بھیج دیا کرتے تھے اور کہتے تھے اس کتاب کو ضرورپڑھیے۔ ان کے پڑھنے کی رفتاربہت تیزنہیں تھی مگر ان کا ذوق مطالعہ بہت عمدہ تھا۔ وہ اکثر و بیشتر قرآن مجید اور قرآن مجید کی تفسیریں تقسیم کرنے کا بھی اہتمام کرتے تھے۔ غالباً وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آجائے جہاں قرآن کی تعلیمات اور دینی شعار عام ہو، یہ مظفر کولا صاحب کے کارناموں میں شمارہوگا کہ وہ ایک باروفدکے ساتھ شکاری پور ضلع شیموگا کرناٹک میں تشریف لائے اور پھر ان کی تشریف آوری سے نہ صرف یہ کہ جمیعہ السنہ کی بنیاد پڑی بلکہ شکاری پور میں مدرسے بھی قائم ہوئے جو آج ایک ادارے کی شکل میں اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ شکاری پور اور شیموگا ان کی عملی فکر کامرکز تھا اور آج بھی ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شیموگا اور شکاری پور میں جوادارے ہیں انہیں مولانا محمد ایوب صاحب ندوی، مولانا محمداقبال صاحب ندویؒ، مولانا صفی اللہ صاحب، اور حافظ کرناٹکی نے قائم کیا اور کامیابی سے چلایا۔ مگر سچائی یہ ہے کہ ان تمام اداروں اور ان تمام لوگوں کے پیچھے پشت پناہ بن کر جناب مظفرکولا صاحب موجودتھے۔ سب کچھ انہیں کی محنت، خلوص اور خدمت کے سچے جذبے کی وجہ سے ہوا۔ ان کے کھلے دل، اور وسیع قلب کی بدولت کئی لوگ اداروں اور مدرسوں کے بانی وناظم اور مالک بن گئے۔ جن لوگوں نے ان سے دوستی کی ان کی قربت حاصل کی ان کی زندگی کو ایک راستہ مل گیا۔ وہ کہاں سے کہاں پہونچ گئے۔ مگر یہ بھی المیہ ہے کہ جن لوگوں نے مظفر کولا صاحب سے خوب خوب فائدہ اٹھایا خود ان لوگوں نے فیض کے اس سرچشمے کوجاری رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ مظفر کولانام کے ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن ہوئے مگر ان میں سے بیشتر چراغوں کے تلے ہمیشہ اندھیرا رہا۔ مظفر کولا صاحب نے حتی المقدور روشنی بانٹنے میں نہایت وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا مگر ان سے روشنی کشید کرنے والوں نے اپنی روشنی اپنے ہی حلقے اور اپنے ہی گھر خاندان تک قیدکیے رکھنے کی کوشش کی۔ اس لیے روشنی کا یہ سفر مستقبل میں بہت دورتک پھیلتانظر نہیں آرہاہے۔مظفر کولا صاحب مزاج کے اعتبار سے نرم اور نغمہ بارتھے۔ خوش رہنا اور خوش رکھنا ان کا وطیرہ تھا۔ وہ بڑے دوست دار قسم کے مخلص انسان تھے ان کا فیض عام تھا۔ وہ کسی گاؤں میں جاتے تو وہاں کے سارے یتیم بچوں کی کفالت اپنے ذمہ لے لیتے۔ کسی مدرسہ میں جاتے تو وہاں کے کئی اساتذہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری قبول کرلیتے۔ علما اور حفاظ سے ملتے تو ان کے ساتھ سلوک کرنے کا موقع تلاش نکالتے۔ ان کی اس طرح کی خوبیوں کے پیش نظر حرص دنیا میں پڑ کر بعض لوگ ایسی کوششیں کرتے بھی نظر آجاتے کہ ندامت محسوس ہوتی تھی۔ مثلاً ان کی کوشش ہوتی کہ سخاوت کے اس چشمے کو پھوٹ کر بہنے سے روکاجائے، یا یہ کہ اس چشمے سے زیادہ سے زیادہ اپنے ہی ادارے کو سینچاجائے۔ اپنے ہی لوگوں کوسیراب ہونے کا موقع دیاجائے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن لوگوں نے دوسروں کے چشموں سے سیرابی حاصل کی اور اپنی شادابی میں بے تحاشہ اضافہ کیا انہوں نے فرض کفایہ سمجھ کر بھی دوسروں کو خود سے فیضیاب نہیں ہونے دیا۔ اگرربط باہمی اور تعاون اور امداد کے اس سلسلے کو لوگوں نے خلوص کے ساتھ جاری رکھا ہوتا تو آج یہ چشمہ ایک دریا بن گیا ہوتا۔ اور اس کی روانی میں کوئی کمی نہیں آتی۔جناب مظفرکولاسے میرے ذاتی مراسم بہت گہرے اور کئی سالوں پر محیط تھے، ان کی بے تکلفی اپنائیت اور خلوص کے30/سال کس طرح گذر گئے معلوم ہی نہیں ہوا، اور آج جب کہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں ان کی عدم موجودگی کا احساس قلب پر اس طرح چھایاہوا ہے کہ ایک طرح کی گھٹن کا احساس ہوتا ہے اور وہ لمحے وہ واقعے ایک ایک کرکے یاد آتے ہیں جو ان کی ذات سے جڑے تھے۔ سفر ہوکہ حضر دکھ ہو کہ سکھ ہر حال میں وہ اپنی شگفتہ مزاجی اور اپنائیت اور سخاوت کا مظاہرہ ضرور کرتے تھے۔برسوں پہلے کا واقعہ ہے ایک دن وہ اچانک شکاری پور آئے، اور کہنے لگے کہ میرے سرمیں بہت تیز دردہورہا ہے۔ میں نے اپنی دوستانہ بے تکلفی کی وجہ سے ان کے سر میں تیل ڈال کر مالش شروع کی وہ کہنے لگے یہ میرے لیے شرمندگی کی بات ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ تیل مالش سے راحت محسوس ہو رہی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ میرے سر کی مالش کریں، کسی طالب علم کو بلائیے چنانچہ مجھے ایسا ہی کرنا پڑا۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا مظفر کولا صاحب نے غربت سے ثروت تک کا سفر کیا تھا۔ وہ غربت کی آزمائشوں، دکھوں، اور گھٹن سے واقف تھے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ غریبوں کے لیے امیروں کی آنکھوں میں کیاہوتا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جن آنکھوں میں تھوڑی سی ہمدردی کی روشنی ہوتی ہے ان میں بھی تحقیر کی تاریکی تیرتی رہتی ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ غریبوں کے جگر کا خون بھی امیروں کو اپنے کھوٹے سکّے سے کم تر محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ غربت کی حسرت نکالنے میں کسی قسم کے تکلف سے کام لیا۔ان کی مہمان نوازی بھی بے مثال تھی۔ سچ پوچھیے تو مہمان نوازی کیا ہوتی ہے یہ مظفر کولا صاحب سے سیکھنے کی چیز تھی۔ دل میں خلوص ہو تو انسان کا ہر عمل مثالی بن جاتا ہے اور ان سے لوگوں کو امیداور توقع سے زیادہ ملتاہے۔ اس لیے ان کی محبت دلوں میں گھرکرجاتی ہے اور اگر دل میں ہی خلوص نہ ہو، فطرت میں ہی سخاوت نہ ہو تو ظاہر ہے کہ ایساانسان کسی کے توقع پر کھرانہیں اترتا ہے اور نہ کسی کے دل میں دائمی طور پر جگہ بناپاتاہے۔آج مظفرکولاصاحب کی موت سے جو سوگواری طاری ہے او ر ان کی تعزیت کے لیے جو چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے ہیں۔ یہ ان کی بے لوث خدمت اور خلوص کا نتیجہ ہے۔ مظفر کولا صاحب کے عمل کا دائرہ محدود نہیں تھا۔ اور نہ ان کا ذوق ہی محدود تھا۔ وہ جس خشوع وخضوع سے دینی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے اسی دلچسپی سے شعر وادب کا بھی مطالعہ کرتے تھے۔ پاکیزہ ادب انہیں بہت پسندتھا۔ وہ میری شاعری بھی پسندکرتے تھے۔ کئی بار تو مجھے ان کے کہنے پر بھی موضوعاتی نظمیں لکھنی پڑی ہیں اور اب المیہ دیکھیے کہ جن کے کہنے پر میں نے کئی موضوعاتی نظمیں لکھی تھیں آج ان کا مرثیہ لکھنا پڑ رہا ہے۔مظفرکولاصاحب کی زندگی کے بیشتر سال دوبئی میں گذرے۔دوبئی میں اللہ نے ان کی تجارت کو بہت برکت دی۔ جب ان کے بچے تجارت سنبھالنے کے لائق ہوگئے تو وہ ہندوستان لوٹ آئے۔ انہوں نے ذاتی طور پر بھی کئی مدارس اور مساجد تعمیر کروائے۔ خود میں نے ان کی کئی مساجد کی تعمیر اور مدارس کے تعمیر کے کاموں کی ذمہ داری لے کر تکمیل تک پہونچایا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ ایک عرصے سے علیل تھے، ان کی زبان بند ہوگئی تھی اس کے باوجودوہ بے عمل اور منفعل نہیں ہوئے تھے۔ ان کے دل میں کام کرنے کا جو جذبہ تھا اس کی تابناکی ان کے چہرے سے جھلکتی تھی۔ وہ ایک خاموش طبع مگر بہت پھیلے ہوئے انسان تھے۔ برصغیرکاشاید ہی کوئی ادارہ ہوگا جس سے ان کا رشتہ نہ رہا ہوگا۔ آج ان کی موت پر ہر طرف سناٹے کا احساس ہے۔ سبھوں کے چہرے پر ملال ہے۔ چھوٹا بڑا، عالم، ادیب، بزرگ جوان سب حیران اور پریشان ہے۔ بچے تک فون کرکے مجھ سے مظفر کولا صاحب کی موت کی تصدیق چاہتے ہیں۔ میں ان بچوں کو اور ان کے چاہنے اور جاننے والوں کو کیسے بتاؤں کہ مظفر کولا صاحب بھی بھلامرسکتے ہیں۔ وہ تو ہماری اور آپ کی یادوں میں زندہ ہیں۔ بے شمار مدارس اور مساجد کے گنبدومینار بن کراپنی موجودگی کا احساس دلارہے ہیں۔ سیکڑوں طلبا وطالبات کی تعلیم اور ان کی زندگی کی کامیابیوں میں روشنی بن کر بکھر گئے ہیں۔ بے شمار یتیموں اور بیواؤں کی زندگی میں امیدوں کا تارہ بن کر چمک رہے ہیں۔ ایسا پھیلاہوا انسان بھی بھلامرسکتاہے۔ ان کی تعمیرکروائی مسجدیں، ان کے بنوائے مدرسے بھلاانہیں مرنے دیں گے؟اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ انسان متضاد عناصر سے مل کربناہے۔ اچھائی اور برائی اس کے خمیرمیں شامل ہے۔ مگراچھا انسان وہی ہے جو اپنی اچھائیوں کی وجہ سے یادرکھاجائے اور مجھے یقین ہے کہ زمانہ مظفر کولا کو ان کی اچھائیوں کے ساتھ یادرکھے گا۔ اور اس کے کاموں کے تناظر میں اس کی زندگی کو دیکھے گا اور اس بات پر اپنی حسرت کا اظہار کرے گا کہ فی الحال دور دور تک کوئی مظفرکولانظر نہیں آرہاہے۔ جو آگے آئے اور مظفرکولاکے لگائے پودوں کو سینچے اس کے اٹھائے گنبدومینار کے رنگ و روغن کوبے نور ہونے سے بچائے۔ اس کے تعمیرکردہ مدرسوں کی بنیادوں کو مضبوط کرے۔ اللہ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے. آمین یا رب العالمین

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here