امریکی سفارتخانہ بند کرنے سے متعلق چینی وزارت خارجہ نے بیان دیا ہے کہ “ہیوسٹن واقع چینی سفارتخانہ بند کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف یہ ضروری اور مناسب قدم ہے۔”

25جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) امریکہ اور چین کے درمیان رشتوں میں تلخیاں لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ ایک طرف امریکہ نے چین کے خلاف کئی اقدام کیے ہیں، وہیں چین نے بھی اس کا جواب دینا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ بدھ کے روز چین کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے امریکہ نے جہاں ہیوسٹن واقع چینی قونصلیٹ بند کرنے کا حکم دیا تھا، وہیں اب چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چینگدو واقع امریکی قونصلیٹ جنرل کو بند کرنے کی ہدایت دے ڈالی ہے۔امریکی سفارتخانہ بند کرنے سے متعلق چینی وزارت خارجہ نے بیان دیا ہے کہ “ہیوسٹن واقع چینی سفارتخانہ بند کرنے کے امریکی فیصلے کے خلاف یہ ضروری اور مناسب قدم ہے۔” امریکہ کے ذریعہ ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ کو بند کرنے کا حکم دینے کے بعد چین کی طرف سے اٹھائے گئے اس قدم کو انتقام کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارہ سنہوا کے مطابق ایک بیان میں حکومت چین نے امریکی قونصلیٹ سفیر کی جانب سے چلائے جا رہے سبھی کاموں اور پروگراموں پر پابندی لگانے کے بارے میں کچھ خاص ضروریات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ لگاتار چین کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں اور کورونا وبا پھیلانے کے لیے بھی چین کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ گزشتہ دنوں ہیوسٹن میں چین کے مشن کو بند کرنے کا حکم دیئے جانے کے بعد حکومت چین نے ناراض ہو کر بیان دیا تھا کہ “امریکہ کے قدم نے سنگین طور پر بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی رشتوں کے بنیادی پیمانوں اور چین-امریکہ کی قونصلر کنونشن کی شرطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے چین-امریکہ تعلقات کو سنگین طور پر نقصان پہنچایا ہے۔”بہر حال، امریکی قونصلیٹ کو بند کرنے کا حکم صادر کیے جانے کے بعد اسے ‘امریکہ کے ذریعہ کیے گئے نامناسب عمل کے لیے ایک جائز اور ضروری عمل’ ٹھہرایا جا رہا ہے۔ حکومت چین نے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “چین-امریکہ تعلقات میں موجودہ حالات وہ نہیں ہیں جو چین چاہتا ہے، اور ان سب کے لیے امریکہ ذمہ دار ہے۔ ہم ایک بار پھر امریکہ سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنے غلط فیصلے کو فوراً واپس لے اور دو فریقی تعلقات کو پٹری پر لانے کے لیے ضروری ماحول بنائے۔”

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here