حافظؔ کرناٹکی

20جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) زندگی ایک چھتنارے درخت کی طرح ہے قدرت نے اسے حیات کی زمین میں بویا اور سینچا ہے۔ یہ درخت اسی زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے اسی کی نمی چوس کر اپنی شادابی بڑھاتا ہے اور اسی زمین میں اپنی جڑیں گہری اتار کر اپنی عمر بڑھاتا ہے۔ یہ قدرت کا نظام ہے، یہ چھتنارا درخت جسے ہم زندگی کے نام سے یاد کرتے ہیں اس پر ہمیشہ نئے بیل بوٹے لگتے ہیں اور پرانے پتے جھڑجاتے ہیں۔
مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان پرانے پتوں میں کچھ پتے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے شاخ سے ٹوٹنے کا زخم درخت برسوں تک اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے اور اس کا بوجھ دھرتی کو بھاری لگتا ہے۔ کیوں کہ یہ دھرتی، یہ مٹی ہی تو تخلیق آدم کا ذریعہ ہے۔ اسی مٹی سے آدم کا خمیر تیار ہوا تھا۔ اس لیے یہ مٹی اپنوں کو مٹی میں ملتے دیکھتی ہے تو اس کا سینہ شق ہوجاتا ہے۔ مگر قدرت کے قانون کے سامنے سبھی بے بس اور راضی بہ رضا ہیں۔
حبیب الامت حضرت مولانا ڈاکٹر محمدادریس حبان رحیمیؒ کی شخصیت بھی زندگی کے چھتنارے درخت کے اس سر سبزوشاداب اور صحت بخش پتّے کی سی تھی جس کا ”شاخ زندگی“ سے ٹوٹ کر گرنا زندگی کے وجود پر ایک کاری زخم کی طرح محسوس ہوتا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ زندگی کا یہ پھیلا ہوا درخت زمانہ دراز تک اپنے اس چہیتے، ہر دل عزیز بہترین خوبیوں سے معمورپتے کی جدائی کا زخم سینے پر سجائے رکھے گااور اسے نشان امتیاز جان کر آنیوالے موسموں کے پروانوں کو فخر سے دکھائے گا۔ زندگی کا شجرسایہ دار اپنے ایسے ہی خوشبودار، خوب صورت، صحت وتوانائی اور نیکی کی روشن علامت کے حامل پتوں کی وجہ سے حیات کی زمین پر سراٹھاکر کھڑا رہتا ہے۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بہت ہی اہم شخصیت کے انتقال سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی بنیاد کا پتھر اکھڑگیا ہے یا کوئی درخت اپنے وجود کے ساتھ ڈھہ گیا ہے۔ وہ درخت جس کی چھاؤں نے ہزاروں لوگوں کو راحت پہونچائی، وہ درخت جس کے پھلوں کے ذائقے نے ہزاروں لوگوں کے جسم و جان کو توانائی بخشی وہ درخت جس کے سائے میں کتنے ہی پودوں نے موسم کے سردوگرم کا سامنا کیا۔ وہ درخت جو ریگستان میں آخری امید کی طرح سرسبزو شاداب تھا۔ کچھ ایسی ہی شخصیت تھی حبیب الامتؒ کی۔ وہ صرف شہر بنگلور ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری ہندوستانی یونانی طریقہ علاج کے لیے سنگ میل کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی قابلیت، لیاقت اور خدا کی بخشی شفائی صفت کی بدولت یونانی طریقہ ئ علاج کی شناخت کو اس وقت مستحکم کیا جب ساری دنیا ایلوپیتھی طریقہئ علاج کے سیلاب میں بہتی چلی جارہی تھی۔ یونانی طریقہئ علاج نہ صرف یہ کہ ہماری تاریخ و تہذیب اور ہمارے ماہر اطباکی وراثت ہے بلکہ یہ مغربی طریقہ ئ علاج کی آندھی کے سامنے پاکیزہ طریقہئ علاج کی ایک مستحکم دیوار ہے۔حبیب الامت ؒنہ صرف یہ کہ ایک ماہر نباض طبیب اور حکیم حاذق تھے بلکہ وہ ایک زبردست عالم اور روحانیت کے خوگر نہایت نیک دل انسان تھے۔ اگر انہیں ہم باقیات صالحات کے زمرے میں رکھیں تب بھی کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کیوں کہ ہمارے جتنے اکابر علما اور صوفیا گذرے ہیں وہ سب کے سب عالم بے بدل کے ساتھ ساتھ حکمت کے اسرار سے بھی آگاہ تھے۔ ہمارے خانقا ہی نظام کے بزرگان جس طرح روحانی علاج میں مہارت رکھتے تھے اسی طرح جسمانی اور ذہنی امراض کے علاج میں بھی ماہر ہوا کرتے تھے، یہ ساری خوبیاں جمع ہوگئی تھیں حبیب الامتؒ کی شخصیت میں۔
حبیب الامتؒ رسماً نہیں واقعتاً اپنی ذات سے ایک انجمن اور جسمانی و روحانی علاج کی ایک زندہ جاوید خانقاہ تھے، اللہ نے ان کے ہاتھ میں زبردست شفادی تھی۔ زندگی سے مایوس مریض بھی ان سے ملنے کے بعد زندگی کی امنگوں سے بھر جاتے تھے۔ ہزاروں لاعلاج مریضوں کی آخری امید گاہ تھے حبیب الامتؒ۔ ان کی ذات سے بنگلور شہر میں ایک خاص طرح کی رونق تھی ایسی رونق جس میں روحانیت کی پاکیزگی کی خوشبو کا احساس رچا بسا تھا۔ علم وانکسار کا رنگ گھلا ملاتھا۔ اپنائیت اور سلوک اور تواضع کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
حبیب الامتؒ کا رخصت ہوجانا کسی ایک شعبے کی کڑی کا ٹوٹ جانا نہیں ہے بلکہ کئی کڑیوں کا ٹوٹ کر بکھرجانا ہے۔ وہ ایک طرف حکمت کی قدیم اور مضبوط کڑیوں کے سلسلے کی مضبوط ترین کڑی تھے تو دوسری طرف روحانیت اور خانقاہیت کے سلسلے کی بھی عمدہ ترین اور مضبوط کڑی تھے۔ اسی پر بس نہیں ہے، وہ دینی علوم کے حصول اور اسے عام کرنے کے سچے جذبے کی حامل نظامی طریقہ تدریس کی بھی بہت معنیٰ خیز کڑی تھے۔ ان سب کے علاوہ وہ عوام الناس کے درمیان ربط باہمی پیدا کرنے کی بھی سب سے بھروسے مند کڑی تھے۔ ان کے سانحہئ ارتحال سے امت کا بہت خسارہ ہوا ہے۔ ان کی رحلت میرا ذاتی خسارہ اور محرومی کا باعث بھی ہے۔ وہ اتنے بلند مرتبے کے انسان، عالم، حکیم اور روحانی پیشوا ہونے کے باوجود مجھے بے حدعزیز رکھتے تھے۔ ہر طرح دل جوئی کرتے تھے۔ ہر کام اور معاملے میں حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اپنے مدرسہ کے دستار بندی کے جلسوں میں بہ اصرار محبت اور شفقت سے بلاتے تھے۔ ان کے ہونے سے ایسا لگتا تھا کہ دنیا میں کوئی ہے جس کو میری یاد آتی رہتی ہے۔ جس کو میری صحت کی فکر رہتی ہے۔ ان کی محبتوں اور شفقتوں کی انتہا نہیں تھی۔ وہ اکثر فون پر دریافت کرتے، طبیعت کیسی ہے، کوئی تکلیف تو نہیں ہے، صحت کیسی ہے، اور اگر میں کچھ تکلیف بتاتا تو پوچھتے کس ڈاکٹر کا علاج چل رہا ہے، کون کونسی دوائیں کھارہے ہیں اور پھر آخری فیصلہ سناتے ساری دوائیں چھوڑ دیں، کوئی فکر نہ کریں، یہ کوئی بڑی تکلیف کی بات نہیں ہے۔ اور پھر دوتین دن کے اندر ہی ان کا پارسل آجاتا۔ دوائیں کتنی کھانی ہیں، کب کھانی ہیں، کس طرح کھانی ہیں ساری تفصیلات دوا کے ساتھ موجود ہوتی تھی۔ان کا انداز اتنا پیارا، اپنائیت اور خلوص کی گرمی سے اتنا شرابور ہوتا کہ آدھی بیماری تو صرف ان کی باتوں سے دور ہوجاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کے لوگ دور دور سے ان کے یہاں علاج کے لیے آتے۔ دکھوں سے کراہتے اور اندیشہ ہائے دور دراز سے گھبرائے ہوئے آتے اور رخصت ہوتے وقت اس طرح امنگوں سے بھرے نظر آتے گویا ڈاکٹر صاحب نے کسی مسیحا کی طرح سرپر ہاتھ پھیر کر انہیں ہر طرح کے مرض سے پاک کردیا ہو۔
وہ سبھی کے دوست تھے، چاہے کوئی مریض ہو کہ مولانا، عام انسان ہو کہ بڑا حاکم، روحانی تعلیم کا خوگر ہو کہ دینی تعلیم کا واقف کار، علم دوست ہو کہ ادب دوست، کسی کو یہ نہیں محسوس ہوتا کہ ڈاکٹر صاحبؒ ان سے کسی سے کم پیار یا شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اسی لیے لوگ انہیں حبیب الامتؒ کے لقب سے یاد کیا کرتے ہیں۔ وہ سچ مچ حبیب الامتؒ تھے۔ امت کا درد لہو بن کر ان کی رگوں میں دوڑتا تھا۔ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور لیاقتوں سے کام لے کر امت کا درد مٹانے میں لگے رہتے تھے۔ چاہے وہ درد جسمانی ہو کہ روحانی، علمی ہو کہ ذہنی، گویا انہوں نے خود کو خلق خدا کی خدمت کے لیے وقف کردیا تھا۔
یہ حبیب الامتؒ کی شخصیت کا ہی سحر تھا کہ جو ایک بار ان سے مل لیتا تھا ہمیشہ کے لیے ان کا ہو کر رہ جاتا تھا۔ ایسی باکمال اور محبت و شفقت اور خدمت کے جذبے سے لبریز شخصیت روز روز نہیں پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے بچھڑنے کا غم بھی سواہوتا ہے۔ ملال کا رنگ بھی اتنا گہرا ہوتا ہے کہ پورے سماج اور معاشرے کے چہرے پر دور سے ہی نظر آنے لگتا ہے۔ جب سبھی لوگ ایک ہی غم کی آگ میں جل رہے ہوں، ایک ہی طرح کی کمی محسوس کررہے ہوں تو پھر ایک دوسرے کی تسلّی کے لیے کچھ کہنا بھی مشکل ہوجاتاہے۔

یہ حبیب الامتؒ کی شخصیت کا خلوص تھا کہ انہوں نے جس طرف قدم بڑھایا شاہ راہ بن گئی۔ جس میدان میں قدم رکھا اس کی ہریالی نکھر گئی، جس طرف نظر اٹھاکر دیکھا وہ ان کا ہوگیا۔ جس طرف چل پڑے لوگوں نے اسے کامیابی کا راستہ سمجھ لیا۔ ان کے چہرے پر جو نورانیت تھی، ان کی باتوں میں جو حلاوت تھی، ان کے انداز میں جو اپنائیت تھی اور تواضع و تکریم کے وہ جیسے پیکر نظر آتے تھے وہ ان کے باطن کی طہارت تھی۔ انسان کا باطن روشن اور منزہ ہو تو ظاہر اپنے آپ سحر کار بن جاتی ہے۔میں نے حبیب الامتؒ کو سفر میں بھی دیکھا ہے اور حضر میں بھی۔ مجلسوں میں بھی دیکھا ہے اور تنہائی میں بھی۔ میں نے ان کی معیت میں دلی، یوپی کا سفر بھی کیا ہے۔ ہر حالت میں انہیں نفس مطمئنہ کا پیکر پایا۔ خلوص اور انکسار کی مثال دیکھا۔
حبیب الامت ؒصاحب بزرگوں اور خانقاہوں کے تربیت یافتہ اور صحبت یافتہ تھے۔ اس لیے ان کے ظاہر باطن میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ ان کا ظاہر ان کے باطن کا آئینہ تھا۔ انہوں نے مجھ ناچیز کو جس اپنائیت اور خلوص کے ساتھ اعزاز بخشا تھا اس سے ان کی شخصیت کی عظمت کا احساس دل میں ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا۔ ان کے لکھے ایک ایک جملے نے مجھے اپنے سحر میں گرفتار کرلیا۔ ان کے حوصلہ افزا اور تعریفی کلمات نے مجھے ان کی امیدوں پر کھڑا اترنے کا جذبہ بخشا۔ یہ بڑے لوگوں کی شان ہوتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی ایسی تعریف کرتے ہیں کہ عزیزان کی تعریف کے معیار پر اترنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ عزیزان ملّت کے مزاج میں مثبت بتدیلی واقع ہوتی ہے بلکہ تبدیلی کا یہ مثبت رویہ پھیل کر پورے سماج کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے اور ایک بہترین تبدیلی کا امکان روشن ہوجاتا ہے۔
یہ اللہ کا بڑاکرم ہے کہ حبیب الامتؒ کو اللہ نے اولادیں بھی ایسی ہی نیک فعال اور فرماں بردار عطا کی۔ اور ان میں وہ ساری خوبیاں ودیعت فرما دیں جن کے طفیل وہ اپنے والد کی وراثت کو خوبی کے ساتھ سنبھال سکیں۔ سچ ہے کہ جب جذبہ سچا ہوتا ہے، دل میں خلق خدا کی خدمت کا جذبہ موجیں مارتا ہے تو اللہ کی طرف سے ایسی امداد مہےّا کردی جاتی ہے جس سے روایت اور وراثت کو تسلسل حاصل ہوجاتا ہے۔
حبیب الامت ؒ کا ہم سے رخصت ہوجانا ایک بہت بڑا حادثہ بلکہ جاں کاہ واقعہ ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ان کا نعم البدل عطا کرے اور حبیب الامتؒ کے آل اولاد، خویش واقارب دوست احباب اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطاکرے….آمین

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here