15 جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں سعودی عرب کے مشن میں انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ مشعل بن علی البلوی نے شام میں جنگ کے آغاز کے بعد سے وہاں کے شہریوں کو درپیش انسانی حقوق کی ان گنت سنگین خلاف ورزیوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وہ منگل کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ بالخصوص ادلب اور حلب کے مغرب میں جہاں تمام فریقوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر حملوں نے طبی خدمات کو شدید طور پر متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں کام معطل ہو گیا اور مقامی آبادی طبی نگہداشت سے محروم ہو گئی۔ مقامی طور پر بے گھر ہونے والے افراد میں 80% خواتین اور بچے ہیں۔ ان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھلے میدان میں سونے پر مجبور ہو گئی۔ دیگر افراد کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں جہاں ان کو پینے کا صاف پانی اور نکاسی آب کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ البلوی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام میں تنازع کے فریقوں پر دباؤ ڈالے تا کہ شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ سعودی عہدے دار نے باور کرایا کہ “فرقہ وارانہ ملیشیائیں اور دہشت گرد جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ دونوں ہی تباہی اور بربادی پھیلا رہی ہیں اور بحرانات کو طویل بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ لہذا مملکت سعودی عرب تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑنے کی اہمیت کو باور کراتی ہے،،، اور اس سلسلے میں کوششوں کو مل کر کامیاب بنانے پر زور دیتی ہے”۔ سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ شام کے بحران کو “جنيوا 1” اعلامیے کے نکاتا اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 کے تحت حل کیا جائے۔ اس طرح شامی عوام کی امیدوں کو پورا کیا جا سکے گا اور ان کے اپنے ملک میں امن و سکون سے رہنے کا حق بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here