گری راج نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کو سیاست اور مذہب سے نہیں جوڑا جائے۔ اسے صرف ملک کی ترقی اور وسائل کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے

نئی دہلی: 11 جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) مرکزی وزیر برائے ماہی پروری اور مویشی پروری گری راج سنگھ نے ہفتے کے روز کہا ملک کواگر ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لانا ہے تو آبادی پر قابو پانے کے لئے سخت قانون کی ضرورت ہے جو تمام لوگوں اور مذاہب پر یکساں لاگو ہوگا۔ سنگھ نے آج عالمی یوم آبادی پر اپنے ٹویٹر پر ایک ویڈیو جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی آبادی ایک ضرورت ہوتی ہے اور کبھی یہ بوجھ بن جاتی ہے۔ بیگوسرائے سے رکن پارلیمان نے کہا کہ آج ہندوستان میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ملک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا 18 فیصد سے زائد ہے جبکہ زمینی رقبہ صرف دو فیصد ہے اور پانی صرف چار فیصد ہے۔ یہی نہیں زیرزمین پانی کی سطح بھی مسلسل کم ہورہی ہے انہوں نے چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج اس کے ترقی یافتہ ہونے کے پیچھے 1979 وہاں لایا گیا آبادی پر قابو پانے والا قانون ہے۔ چین میں یہ قانون نہیں ہوتا تووہاں کی آبادی میں 60 کروڑ کا اضافہ ہوتا۔ سنگھ نے کہا ’’ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی آج ہمارے لئے ایک چیلنج بن گئی ہے۔ اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کے برابر کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں آبادی پر لگام لگانی ہو گی اور اس کے لئے ایک سخت قانون کی ضرورت ہے جو تمام لوگوں اور مذاہب پر یکساں نافذ ہوگا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کو سیاست اور مذہب سے نہیں جوڑا جائے۔ اسے صرف ملک کی ترقی اور وسائل کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here