08 جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) گذشتہ برس 2019ء میں سعودی عرب آنے والے سیاحوں کی جانب سے مملکت میں خرچ کی جانے والی رقم کا حجم تقریبا 101 ارب ریال (26.93 ارب ڈالر) رہا۔ یہ حجم 2018ء کے مقابلے میں 8.02% زیادہ رہا۔ سال 2018ء میں غیر ملکی سیاحوں کی جانب سے مملکت میں 93.5 ارب ریال (24.93 ارب ڈالر) خرچ کیے گئے تھے۔ سعودی عرب کی مانیٹری اتھارٹی (ساما) اور وزارت سیاحت کے مطابق 2019ء کے دوران سامنے آنے والا نمو کا تناسب آخری 3 برسوں میں سب سے زیادہ تھا۔ سعودی عرب کا ہدف ہے کہ سیاحتی سیکٹر کو ویژن 2030 پروگرام کے حصے کے طور پر ترقی دی جائے۔ اس حوالے سے ستمبر 2019 میں سیاحتی ویزے متعارف کرائے جانے کے بعد حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ ستمبر 2019 سے فروری 2020 (کرونا کے عالمی بحران سے قبل) تک مملکت کی جانب سے جاری کیے گئے سیاحتی ویزوں کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ سال 2019ء کے دوران سعودی عرب آنے والے سیاحوں میں سب سے زیادہ تناسب 37.7% خلیجی ممالک کا رہا۔ اس کے بعد 16.7% کے ساتھ جنوبی ایشیا دوسرے اور 14.7% کے ساتھ مشرق وسطی کے ممالک تیسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح مشرقی ایشیا اور پیسیفک اوشین کی جانب سے آنے والوں کا تناسب تقریبا 11.1% رہا۔ ان کے بعد افریقا سے آنے والوں کا 7.7%، یورپ سے آنے والوں کا 7.3% اور امریکا سے آنے والوں کا تناسب 4.8% تھا۔ سعودی عرب آنے والے سیاحوں کی جانب سے خرچ کی گئی رقم میں مذہبی مقاصد کے لیے آمد بھی شامل ہے۔ مذہبی مقاصد کے تحت آنے والوں کی جانب سے خرچ کی گئی رقم مجموعی حجم کا تقریبا 73.2% رہا۔ اس کے بعد کاروباری دوروں اور کانفرنس میں شرکت کا تناسب 18.2% رہا۔ علاوہ ازیں عزیز و اقارب اور دوستوں سے ملاقات کے مقصد سے آنے والوں کا تناسب 5.5% تھا۔ گذشتہ برس 2019 کے دوران سعودی عرب میں مقامی سیاحت کی مد میں خرچ کی گئی رقم کا حجم 10.4% کے ریکارڈ اضافے کے ساتھ تقریبا 53 ارب ریال ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں 2018ء کے دوران یہ رقم 48 ارب ریال تھی۔ اس طرح 2019 میں سعودی عرب میں مقامی سطح پر اور بیرون ملک سے آنے والوں کی جانب سے مملکت میں خرچ کی گئی رقم کا مجموعی حجم تقریبا 154 ارب ریال رہا۔ یہ 2018ء کے مقابلے میں تقریبا 8.8% زیادہ ہے۔ مذکورہ 154 ارب ریال میں بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی جانب سے خرچ کی گئی رقم 65.6% بنتی ہے۔ سعودی عرب میں سیاحت کے سیکٹر میں متعدد بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس طرح ویژن 2030 پروگرام کی روشنی میں سیاحت کا سیکٹر مملکت کی معیشت کے لیے آمدنی کا نہایت اہم میدان بن جائے گا۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here