08 جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی اُس قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا ہے جس میں دو سرحدی گزر گاہوں کے راستے شام کو امداد پہنچانے کی مدت میں ایک سال کی توسیع کے لیے کہا گیا تھا۔ اس قرار داد کا مسودہ سلامتی کونسل کے دو غیر مستقل ارکان جرمنی اور بیلجیم نے پیش کیا تھا۔ مذاکرات کے دوران روس نے مطالبہ کیا کہ امدادی ترسیل کی مدت میں صرف چھ ماہ کی توسیع کی جائے اور اس دوران صرف ایک سرحدی گزر گاہ کے راستے امداد پہنچائی جائے۔ سفارت کاروں کے مطابق فی الوقت اس مقصد کے لیے دو سرحدی گزر گاہیں استعمال ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چین اور روس نے قرار داد کے مسودے کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کیا۔ سلامتی کونسل کے بقیہ 13 رکن ممالک نے جرمنی اور بیلجیم کی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا۔ آج بدھ کی شام روس کی مجوزہ قرار داد کے مسودے پر رائے شماری ہو گی۔ اس قرار داد میں ماسکو نے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کی امداد پہنچانے کے لیے مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی جائے اور یہ عمل ترکی کے ساتھ سرحد پر ایک گزر گاہ کے راستے پورا کیا جائے۔ دو سرحدی گزر گاہوں کے راستے شام کے لیے اقوام متحدہ کی امداد پہنچانے کا میکانزم 2014ء سے جاری و ساری ہے۔ اس میکانزم کا مینڈیٹ رواں ماہ 10 جولائی کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ 2011 میں شام میں تنازع کے آغاز کے بعد سے کل منگل کے روز تک ماسکو کی جانب سے 15 بار ویٹو کا حق استعمال کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی ممالک کے علاوہ اقوام متحدہ بھی یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ شام کے لیے سرحدی راستوں کے ذریعے امداد پہنچانے کے میکانزم کو ایک سال کے لیے برقرار رکھا جائے اور اس کے لیے ترکی کے ساتھ سرحد پر کم از کم دو گزر گاہوں کو استعمال میں لایا جائے۔ رواں سال جنوری میں شامی صدر بشار الاسد کے اولین سپورٹر روس نے ملک میں داخلے کی چیک پوائنٹس کو چار سے کم کر کے دو کر دیا تھا۔ اسی طرح میکانزم کی مدت کو بھی کم کر کے چھ ماہ کر دیا گیا تھا جب کہ اس دوران ایک سال کی مدت پر عمل جاری و ساری تھا۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here