ابتک ان سرنگوں کے پھٹنے سے بچوں اور خواتین سمیت 39 افراد لقمہ اجل جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں

06جولائی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) لیبیا کی غیر قانونی مسلح قوتوں کی جانب سے دارالحکومت طرابلس کے جنوبی علاقے میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کوشش کرنے والے دو ماہرین بم پھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔ خیال رہے کہ حفتر کے ملیشیاوں کی جانب سے طرابلس کے جنوبی رہائشی علاقوں سے انخلا کے وقت وہاں پر بھاری تعداد میں بارودی سرنگوں اور دستی بموں کو زمین میں دبانے کا تعین ہوا تھا۔ ابتک ان سرنگوں کے پھٹنے سے بچوں اور خواتین سمیت 39 افراد لقمہ اجل جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا طرابلس کی لیبیا پارلیمنٹ سے منسلک انسانی حقوق و آزادی کمیشن نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے دفتر کی صدر ڈیانا الا تہاوی سے انٹرنیٹ کے ذریعے ایک اجلاس منعقد کیا۔ پارلیمنٹ نے سماجی رابطوں کے ویب پیج کے ذریعے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ حفتر کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سر زد کردہ جرائم کا تفصیلی ریکارڈ تیار کرنے پر کام کرنے کی توضیح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیار کردہ فائل کو عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کیا جائیگا اور مجرمین کو عالمی عدالتوں کی جانب سے سزا دیے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ طرحونہ شہر کی حفتر قوتوں سے نجات کے بعد لیبیا کے اداروں نے شہر اور گرد و نواح کے علاقوں میں 11 اجتماعی قبریں دریافت کی تھیں۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here