30جون 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں کے دوران ایک تحقیقاتی ٹیم چین بھیجے گا۔ یہ پیش رفت امریکا کی جانب سے شدید تنقید اور یورپی ممالک کی جانب سے کرونا وائرس کی اصل کے بارے میں تحقیق کی ضرورت پر زور کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس وبا نے دنیا بھر میں اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جانوں کو نگل لیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈرس ایڈہانوم گیبریسس نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ادارہ آئندہ ہفتے ایک ٹیم چین بھیجے گا تا کہ کرونا وائرس کی وبا کی اصل کے حوالے سے تحقیق کی جا سکے۔ امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ماہ سے عالمی ادارہ صحت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کر رہے تھے.. ساتھ ہی ادارے پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ چین کے حوالے سے جانب داری کا مظاہر کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کاکردگی میں مطلوبہ بنیادی اصلاحات نہ کیے جانے پر گذشتہ ماہ ادارے کے لیے اپنے ملک کی جانب سے مالی معاونت کا سلسلہ روک دینے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلی ذمے داران بیجنگ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے کرونا وائرس کے حوالے سے معلومات پر پردہ ڈالا اور اس وبا کے ساتھ نمٹنے میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اقوام متحدہ میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریون نے پیر کی شام اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ کئی ممالک نے عالمی سطح پر کوویڈ-19 کے خلاف پیش رفت کو یقینی بنایا ہے تاہم اس کے باوجود یہ وبا اپنے اختتام کے قریب نہیں آئی ہے بلکہ اس میں شدت آ رہی ہے۔ یاد رہے کہ دسمبر 2019 میں چین میں کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے کل پیر کے روز تک اس وبا کے سبب کم از کم 502599 افراد موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ فرانس پریس کی جانب سے سرکاری حوالے سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 196 ممالک اور ریجنز میں 10208540 مصدقہ کیسوں کا اندراج ہو چکا ہے۔ ان میں کم از کم 5094900 افراد صحت یاب ہو گئے ہیں۔

(العربیہ)

https://youtu.be/riihVdN6Ue0

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here