30 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) الحمد للہ 28 مئی بروز جمعرات رات دس بجے الہلال این آر آئ فورم کی ایک ملاقات عصر حاضر کی جدید سہولیاتی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے زوم پر آن لائن رکھی گئی…. جسمیں فورم کے اکثر و بیشتر ممبران نے شرکت کی اور فورم سے وابستگی و دلچسبی کا جیتا جاگتا ثبوت دیا، اس تقریب کی شروعات مولوی حافظ سلیمان ارمار ندوی کی تلاوت سے ہوئی بعد از جناب امیر باشاہ شیخ نے حمد و جناب انصار پیرزادے نے سریلی آواز میں نعت پیش کی… جسکے بعد فورم کے معنی خیز ترانے کو محمد زیان کوڑمکی نے انوکھے انداز میں گنگنایا اس کے بعد تمام حاضرین کو اپنے اپنے دلی جذبات و تاثرات پیش کرنے کے لئے دو دو منٹ کا وقفہ دیا گیا.. جس میں محلے کر قدیم و جدید حضرات نے اپنے خیالات و نطریہ کو پیش کیا اور فورم کو وقت کی ایک اہم ضرورت اور مستقبل کا کامیاب وروشن ترین ادارہ قرار دیا…. دعا ہیکہ اللہ تعالی اس ادارے کو شرورفتن سے محفوظ رکھتے ہوئے ممبران کے خیالات کے مطابق بنائے… آمین  ماشائاللہ تقریب میں ساٹھ سے زائد ممبران نے شرکت کی، تقریب کے بیچ میں جناب حافظ جعفر صادق کندنگوڑا کی نعت خوانی اور جناب فضل رکن الدین و شاعر بھٹکل جناب عرفان سدی باپا کی نوائطی گیت نے محفل میں مزید نکھار پیدا کیا..  آخیر میں فورم کے صدر جناب مولوی جواد ندوی کوڑمکی نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ ادارے اگر عہدیداروں یا زمہ داروں کے سپرد کئے جائیں اور عوام ان ہی پر تکیہ لگائے بیٹھیں تو ادارے کھوکھلے ہو جاتے ہیں، اس لئے اداروں کی مستحکمی و مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھے اور اس کی ترقی کی فکر کرے… ساتھ ساتھ یہ بھی خیال رکھے کہ ہمارا ہر کام اللہ کی رضا کے لئے ہو یہاں تک کہ ہمارا جڑنا اور ایک دوسرے سے محبت و نفرت بھی اللہ ہی کے لئے ہو تو ہم اجر و ثواب کے باعث بنیں گے… شروعات سے اخیر تک تقریب کی نظامت فورم کے جنرل سیکریٹری جناب اطہر پیرزادے نے بحسن خوبی انجام دی… دلچسب بات یہ رہی کہ اس پروگرام میں کوئز مقابلے کے کنوینر جناب اسحاق سدی باپا نے دینی معلومات پر مشتمل سوالات ممبران سے پوچھا جس میں اول آنے والے سلطان ارمار کو پانچ ہزار اور دوم آنے والے عرفان سدی باپا کو دو ہزار اور سوم آنے والے وسیم سدی باپا کو ایک ہزار بطور انعام دیا گیا… آخیر میں فورم کے بنیادی ذمہ دار جناب آفتاب ایم جے صاحب نے تمام ممبران کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعیت کا مطلب ہی یہ ہیکہ پوری جماعت کا کسی ایک کی ماتحتی میں چلنا؛ بھلے فیصلے اپنی رائے اور مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو مگر مان کر چلنے میں ہی اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے… اور ان ہی کی دعائیہ کلمات کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا

   

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here