بکسر ضلع واقع کوارنٹائن سنٹر میں ایک نوجوان کی خوراک سے سنٹر منیجر سے لے کر انتظامیہ کے لوگ بھی حیران ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شخص کی وجہ سے رسوئیے نے اب روٹی بنانے سے منع کر دیا ہے۔

29 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) بہار کے بکسر ضلع کا ایک کوارنٹائن سنٹر ان دنوں موضوع بحث بن گیا ہے۔ اس کوارنٹائن سنٹر میں رکھے گئے ایک نوجوان کی بھوک نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس نوجوان کی ایک وقت کی خوراک 40 روٹیاں اور 10 پلیٹ بھات (اُبلا ہوا چاول) ہے۔ بلاک کے افسر بھی نوجوان کی خوراک کو دیکھ کر حیران اور پریشان ہیں۔ تنہا 10 لوگوں کا کھانا کھانے والے نوجوان کی وجہ سے بکسر کے منجھواری واقع راجکیہ بنیادی مدھیہ ودیالیہ میں بنا کوارنٹائن سنٹر آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ضلع کے کھرہا ٹانڈ پنچایت کا رہنے والا 23 سالہ نوجوان انوپ اوجھا اس وقت منجھواری گاؤں کے اسی کوارنٹائن سنٹر کا مہمان ہے۔ انوپ اوجھا کی خوراک سے کوارنٹائن سنٹر کے اسٹاف سے لے کر انتظامیہ تک کے لوگ پریشان اور حیران ہیں۔ جب اس کوارنٹائن سنٹر میں خوردنی اشیاء خرچ زیادہ ہونے لگی تب افسران نے اس کی وجہ پوچھی۔ انھیں جب اس نوجوان انوپ کے بارے میں بتایا گیا تو انھیں یقین ہی نہیں ہوا۔ پھر بلاک افسر ایک دن ٹھیک کھانے کے وقت کوارنٹائن سنٹر پہنچے اور انھوں نے جب اپنی آنکھوں سے انوپ کی خوراک دیکھی تو وہ انگشت بدنداں رہ گئے۔ سمری کے بلاک ڈیولپمنٹ افسر اجے کمار سنگھ نے بتایا کہ انوپ ناشتے میں 40 روٹیاں کھا لیتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ رسوئیا نے بھی انوپ کے لیے روٹی بنانے سے منع کر دیا ہے۔ اتنی زیادہ روٹی بنانے میں اسے بھی پریشانی ہو رہی ہے۔ کوارنٹائن سنٹر کے لوگوں نے بتایا کہ رسوئیے نے انوپ کے لیے روز 40 روٹیاں بنانے سے انکار کر دیا ہے۔ اس کے لیے اب دونوں وقت چاول ہی بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ بی ڈی او نے سنٹر کے منیجر کو ہدایت دی ہے کہ انوپ کی خوراک میں کمی نہیں کی جائے۔ بی ڈی او نے بتایا کہ انوپ اوجھا کو تقریباً 10 دن پہلے اس کوارنٹائن سنٹر میں لایا گیا تھا۔ وہ روزی روٹی کی تلاش میں راجستھان گیا تھا۔ چوتھے لاک ڈاؤن کے بعد اس کا صبر ٹوٹ گیا اور وہ گھر واپسی کرتے ہوئے بہار لوٹ آیا۔ گھر جانے سے پہلے اسے 14 دن کے لیے یہاں کے کوارنٹائن سنٹر میں رکھا گیا ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here