ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیدروس گیبریسس اور ڈبلیو ایچ او فاؤنڈیشن کے بانی پروفیسر تھامس جیلٹنر نے کووڈ- 19 پر منعقد باقاعدہ پریس کانفرنس میں ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے۔

28 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اپنے باقاعدہ کام کاج کے لئے رکن ممالک کی مدد پر انحصار کرنے والی تنظیم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس مجبوری کو ختم کرنے کی سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے ڈبلیو ایچ او فاؤنڈیشن کے نام سے بدھ کو ایک نئی تنظیم کا قیام کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیدروس گیبریسس اور ڈبلیو ایچ او فاؤنڈیشن کے بانی پروفیسر تھامس جیلٹنر نے کووڈ- 19 پر منعقد باقاعدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ دونوں تنظیموں کے سربراہاں نے ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کیے۔ڈاکٹر ٹیدروس نے بتایا کہ قانونی طورپر ڈبلیو ایچ او فاؤنڈیشن عالمی ادارہ صحت سے الگ تنظیم ہے جو سوئزرلینڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ یہیں جنیوا میں ڈبلیوایچ او کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ وہ ڈبلیوایچ او کے کام کاج کے لئے غیر روایتی ذرائع سے پیسے جمع کرائے گا۔ یہ پیسہ عام لوگوں اور وسیع سطح پر عطیہ کرنے والوں سے جمع کیا جائیگا۔ مفاہمت نامہ کے ذریعہ دونوں تنظیمیں ایک دوسرے سے وابستہ رہیں گی۔ امریکہ کے ذریعہ پچھلے دنوں ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی مدد روکنے کے ضمن میں ڈبلیو ایچ او فاؤنڈیشن کا قیام اہم ہے۔ اس سے اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والا عالمی ادارہ صحت اپنے خرچ اور منصوبوں کے لئے رکن ممالک کی مدد پر منحصر نہیں رہے گا حالانکہ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ٹیدروس نے نئی تنظیم کے قیام اور امریکی مدد روکے جانے کے واقعہ کے درمیان کوئی تعلق ہونے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا منصوبہ دو سال پہلے تیار ہوا تھا اور اس سمت میں پچھلے ساتھ مارچ میں ہی کام شروع ہوگیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او سربراہ نے کہا کہ فاؤنڈیشن سے ملنے والی رقم رکن ممالک سے ملنے والی مدد کے علاوہ ہوگی۔ اس سے نئے منصوبوں پر کام شروع کرنے میں مدد ملے گی اور اس طرح ڈبلیو ایچ او کے کام کاج کا دائرہ بڑھ سکے گا۔ شروعات میں فاؤنڈیشن کے ذریعہ جمع کی گئی رقم کا استعمال کووڈ- 19 کی وبا سے لڑنے میں کیا جائے گا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here