یمن میں آئینی حکومت نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ الحدیدہ شہر میں راس عیسی بندرگاہ کے نزدیک تیرتے سمندری آئل ٹینکر “صافر” سے تیل کے رساؤ یا اس میں دھماکے کی صورت میں سب سے بڑا ماحولیاتی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔

26 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سوشل میڈیا پر یمنی حلقوں کی جانب سے زیر گردش تصاویر میں “صافر” جہاز کے ٹینک کی الم ناک صورت حال ظاہر ہو رہی ہے۔ اس ٹینک میں تقریبا 12.78 لاکھ بیرل تیل موجود ہے۔ پانچ برس سے مرمت نہ ہونے کے نتیجے میں ٹینک کے گلنے کے حجم میں واضح طور پر اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر وسیع اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عن قریب ممکنہ رساؤ یا دھماکے کی صورت میں بحر احمر میں ماحولیاتی المیہ جنم لے گا جو اس نوعیت کی دنیا کی سب سے بڑی آفت بن سکتی ہے۔ یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے پیر کی شب جاری اپنے بیان میں ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ “صافر” آئل ٹینکر سے تیل کے رساؤ یا اس میں دھماکے کی صورت میں دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیاتی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ 13.8 کروڑ لیٹر تیل کے بحر احمر میں رساؤ کے نتیجے میں الحدیدہ شہر کی بندرگاہ کئی مہینوں کے لیے بندش کا شکار ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ ایندھن اور ضروریات زندگی کی قلت سامنے آئے گی۔ ایندھن کی قیمتوں میں 800% سے زیادہ اضافہ ہو جائے گا اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی۔ اسی طرح آئندہ بیس برسوں کے دوران مچھلی کو ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں دس ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہو جائے گا۔ یمنی وزیر کے مطابق صافر آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھنے کی صورت میں الحدیدہ شہر میں 30 لاکھ انسان زہریلی گیسوں سے متاثر ہوں گے۔ مچھلی پکڑنے کے پیشے سے وابستہ 5 لاکھ افراد اور ان کے گھر والوں کو جن کی تعداد اندازا 17 لاکھ ہے،،، غذائی امداد کی ضرورت ہو گی۔ الاریانی نے توجہ دلائی کہ گیس اور بارش کے پانی کے مل جانے سے بالآخر 60 لاکھ افراد دھیرے دھیرے زہر کی سرائیت اور صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔ اسی طرح یمن میں پیداوار دینے والی زرعی اراضی میں 4% زمین سیاہ بادلوں سے ڈھک جائے گی۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 7 کروڑ ڈالر قیمت کے بیج، پھل اور سبزیاں برباد ہو جائیں گی۔ یمنی وزیر کے مطابق رساؤ واقع ہونے کی صورت میں الحدیدہ میں انسانی حقوق کی 58 تنظیمیں اپنی خدمات معلق کر دیں گی۔ اس سے 70 لاکھ ضرورت مند خدمات سے محروم ہو جائیں گے۔ اس صورت میں امکان ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد امداد اور خدمات کے حصول کے لیے دیگر شہروں کی جانب نقل مکانی کر جائیں گے۔ ساحلی علاقوں میں سال کے 12 ماہ کام کرنے والے 60 ہزار کاشت کار اور مچھیرے کام کی تلاش میں نقل مکانی کر سکتے ہیں۔ الاریانی کے مطابق صافر جہاز کے تیل کے ٹینک کے رساؤ یا دھماکے کے نتیجے میں جنم لینے والا ماحولیاتی المیہ یمن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحر احمر اور خلیجِ عدن پر پھیلے ممالک بھی اس آفت کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ یمنی وزیر کا کہنا تھا کہ آبنائے باب المندب اور نہر سوئز میں بین الاقوامی تجارتی آمد و رفت متاثر ہو گی۔ اس کے علاوہ پوری ساحلی پٹی پر سمندری ماحول بھرپور تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک باقی رہیں گے۔ الاریانی نے حوثی ملیشیا کو اس ممکنہ المیے اور اس کے پُر آفت نتائج کا مکمل ذمے دار ٹھہرایا۔ انہوں نے عالمی برادری سے فوری مداخلت اور مطلوبہ دباؤ کا مطالبہ کیا تا کہ اس سنگین خطرے سے گریز کیا جا سکے۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ کی تکنیکی ماہرین کی ٹیم مذکورہ آئل ٹینکر کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لے سکے اور معمول کا مرمت کا کام شروع کیا جا سکے۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here