’’سعودی عرب کی تمام مساجد جمعہ اور پنجگانہ باجماعت نمازوں کے لیے 31 مئی سے کھل جائیں گی‘‘

26 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ذمے دار ذرائع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مملکت میں صحت کے شعبے سے متعلق حکام کی سفارشات کی بنیاد پر کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات میں نرمی کی گئی ہے۔ اس میں کرفیو کے اوقات میں جزوی تبدیلی کے علاوہ احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ بعض سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز شامل ہے۔ مملکت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جمعرات 28 مئی 2020 سے ہفتہ 30 مئی 2020 تک درج ذیل امور پر عمل ہو گا: ـ مملکت کے تمام علاقوں میں (مکہ مکرمہ کے سوا) کرفیو میں نرمی کے اوقات صبح چھ بجے سے سہ پہر تین بجے تک ہوں گے۔
۔ نرمی کے اوقات کے دوران مملکت میں نجی گاڑی میں علاقوں اور شہروں کے درمیان نقل وحرکت کی اجازت ہو گی۔
۔ سابقہ فیصلوں میں اجازت یافتہ سرگرمیوں کے جاری رہنے کے علاوہ نرمی کے اوقات میں درج ذیل شعبوں میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ہو گی:
تھوک اور خوردہ فروشی کی دکانیں.
تجارتی مراکز (مالز).
۔اُن تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد رہے گی جن میں سماجی فاصلے کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ ان میں بیوٹی سیلونز، ہیئر ڈریسرز، صحت اور کھیلوں سے متعلق کلب، تفریحی مراکز، سینیما ہاؤسز اور متعلقہ حکام کی جانب سے متعین کردہ سرگرمیاں شامل ہیں۔
اتوار 31 مئی 2020 سے ہفتہ 20 جون تک درج ذیل امور پر عمل ہو گا:
ـ مملکت کے تمام علاقوں میں (مکہ مکرمہ کے سوا) کرفیو میں نرمی کے اوقات صبح چھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہوں گے۔
۔ سابقہ فیصلوں میں اجازت یافتہ سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ـ مملکت کی مساجد میں (سوائے مکہ مکرمہ کی مساجد کے) احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کے ساتھ نماز جمعہ اور پانچوں وقت با جماعت نماز کی ادائیگی پھر سے شروع ہو جائے گی۔
ـ موجودہ معمول کی طرح مسجد حرام میں طبی اور احتیاطی اقدامات کے مطابق نماز جمعہ اور با جماعت نماز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ـ وزارتی دفاتر، حکومتی اتھارٹیز اور نجی سیکٹر کی کمپنیوں میں حاضری پر پابندی اٹھا لی جائے گی۔ ہیومن ریسورسز اور سماجی بہبود کی وزارت کی جانب سے وضع کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق دفتری سرگرمیوں کی اجازت ہو گی۔ یہ قواعد اور ضوابط وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری سے وضع کیے جائیں گے۔
ـ اندرون مملکت فضائی پروازوں پر عائد پابندی اٹھا لی جائے گی۔ اس حوالے سے شہری ہوابازی کی جنرل اتھارٹی کی جانب سے وزارت صحت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری سے مقرر کردہ احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر پر عمل لازم ہو گا۔
ـ آمد ورفت کے مختلف وسائل کے ذریعے صوبوں کے درمیان سفر پر پابندی اٹھا لی جائے گی۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام مطلوبہ احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کی پابندی کریں گے۔
ـ سابقہ فیصلوں میں اجازت یافتہ سرگرمیوں کے جاری رہنے کے علاوہ نرمی کے اوقات میں درج ذیل شعبوں میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ہو گی:
1ـ متعلقہ حکام کی جانب سے وضع کردہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ ریستورانوں کو کھولنے کی اجازت ہو گی۔
2ـ متعلقہ حکام کی جانب سے وضع کردہ احتیاطی اقدامات کے ساتھ قہوہ خانوں کو کھولنے کی اجازت ہو گی۔
۔اُن تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد رہے گی جن میں سماجی فاصلے کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ ان میں بیوٹی سیلونز، ہیئر ڈریسرز، صحت اور کھیلوں سے متعلق کلب، تفریحی مراکز، سینیما ہاؤسز اور متعلقہ حکام کی جانب سے متعین کردہ سرگرمیاں شامل ہیں۔
۔عوامی مقامات پر چوبیس گھنٹے سماجی فاصلے کے اقدامات نافذ العمل رہیں گے۔ سماجی تقریبات مثلا شادی بیاہ اور تعزیتی مجالس وغیرہ میں 50 سے زیادہ افراد کی شرکت پر پابندی ہو گی۔
اتوار 21 جون 2020 سے مملکت کے تمام صوبوں اور شہروں میں (سوائے مکہ مکرمہ کے) کرفیو کے اقدامات سے پہلے کی طرح معمولات زندگی بحال ہو جائیں گے۔ اس حوالے سے حفاظتی طبی ہدایات اور سماجی فاصلے کی پابندی لازم ہو گی۔
جہاں تک مکہ مکرمہ کا تعلق ہے تو یہاں شقوں کے پہلے مرحلے پر اتوار 31 مئی 2020 سے ہفتہ 20 جون 2020 تک عمل کیا جائے گا،،، جب کہ شقوں کے دوسرے مرحلے پر اتوار 21 جون سے عمل درامد کا آغاز ہو گا۔مملکت میں تمام شہریوں اور غیر ملکی مقیمین پر لازم ہو گا کہ وہ متعدی وبا کی منتقلی پر روک لگانے سے متعلق تمام وسائل اور اقدامات کو یقینی بنائیں۔ ان میں چہرے پر ماسک پہننا، ہاتھوں کا دھونا، جراثیم کش مواد سے تطہیر اور سماجی فاصلہ شامل ہے۔ کرفیو کے اوقات کے دوران ضروری اور ہنگامی صورت حال وغیرہ میں نقل و حرکت کے واسطے اجازت ناموں کا حصول لازم ہو گا۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی موبائل ایپ (توکلنا) کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا کرفیو کے دورانیے میں علاقے کے لوگوں کو اپنے محلوں میں واک کی اجازت ہو گی۔ اس حوالے سے مطلوبہ احتیاطی اقدامات اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنا لازم ہو گا۔ عمرے اور زیارت پر پابندی جاری رہے گی۔ وزارت صحت کی جانب سے اعداد و شمار کی روشنی میں وقتا فوقتا اس پر نظر ثانی کی جاتی رہے گی۔ بین الاقوامی فضائی پروازوں کا تعطل اطلاع ثانی تک جاری رہے گا۔ صحت کے شعبے سے متعلق اعداد وشمار کی روشنی میں کسی بھی مرحلے کی توسیع یا احتیاطی اقدامات کو سخت کرنے کے لیے وزارت صحت غور کرنے کی مجاز ہو گی۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اقدامات سے متعلق فیصلوں اور ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف سزاؤں کا اطلاق ہو گا۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here