18 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اگر سپریم کورٹ انسانی رویے کا مظاہرہ کرتا اور حکومت کو مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے فوری مسئلے کو حل کرنے کے احکامات صادر کرتا تو ممکن ہے کہ اان کے حالات بدل گئے ہوتے۔ اس وقت ملک بھر کی تمام شاہراہیں مہاجر مزدوروں سے بھری پڑی ہیں۔ لاکھوں مزدور اپنے اپنے عارضی پڑاؤں سے اپنے آبائی گھروں کو جانے پر مجبور ہیں۔ وہ مختلف ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ کوئی ٹرک سے جا رہا ہے تو کوئی ٹریکٹر سے۔ کوئی آٹو سے تو کوئی سائکل سے۔ کوئی ٹھیلے کے ذریعے تو کوئی ہاتھ گاڑی سے۔ اور جس کے پاس کوئی انتظام نہیں ہو سکا وہ پیدل ہی چل پڑا ہے۔ ایسے مزدوروں کی اکثریت ہے جو پیدل چل رہے ہیں۔ ان کے حالات انتہائی دردناک ہیں۔ میڈیا میں آنے والی ان کی تصویریں ان کی بے بسی و بے کسی کا واشگاف بیانیہ ہیں۔ کیا جوان کیا بزرگ، کیا مرد کیا خواتین، کیا بچے اور کیا مریض اور مزید برآں حاملہ خواتین بھی۔ سب پیدل چلنے پر مجبور ہیں۔ جن کے پاس کچھ پیسے ہیں یا جو اپنے گھروں سے پیسے منگوا سکے ہیں وہ بسوں، ٹرکوں اور دوسرے ذرائع سے رواں دواں ہیں۔ ایسے میں ٹرک اور دوسرے ذرائع نقل و حمل کے مالکان ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بے دریغ رقوم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ پچاس پچپن دنوں سے ملک بھر کی سڑکوں پر یہی عالم ہے۔ پہلے لاک ڈاون کے فوراً بعد جب مزدور سڑکوں پر نکل آئے تھے تو حکومت نے سختی کی اور انھیں جانے سے روکا۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کو اجازت دے دی گئی۔ اس بارے میں حکومت کا فیصلہ بدلتا رہا اور آج صورت حال یہ ہے کہ ان کو جانے کی اجازت تو ہے لیکن حکومت کی جانب سے ان کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں ہے۔ اگر چہ حکومت نے اب جا کر خصوصی ٹرینیں چلائی ہیں لیکن ان ٹرینوں کی برتھ تک پہنچنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ پہلے کئی کئی دنوں تک لائن لگ کر پولیس تھانوں میں اپنا رجسٹریشن کرانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد جب ان کے جانے کا نمبر آتا ہے تو چوبیس چوبیس گھنٹے تک ان بسوں کے لیے لائن لگانی پڑتی ہے جو انھیں ان کے جائے قیام سے اسٹیشنوں تک لے جاتی ہیں۔ ایسے میں کچھ لوگوں کو بسوں اور پھر ٹرینوں تک پہنچنے میں اتنی تاخر ہو چکی ہوتی ہے کہ ان کی ٹرین چھوٹ جاتی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اب تک لاکھوں مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچایا جا چکا ہے لیکن اس کے لیے ان مزدوروں کو کس قیامت سے گزرنا پڑتا ہے اس کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ جو لوگ پیدل چل رہے ہیں ان کے حالات اور بھی دگرگوں ہیں۔ ان لوگوں میں ایسے لوگوں کی بھی خاصی تعداد ہے جو کئی کئی دنوں تک بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔ ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ کہیں سے کچھ لے کر کھا پی لیں۔ اب جا کر کچھ پرائیویٹ تنظیموں کی جانب سے راستے میں لوگوں کے کھانے پینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ لیکن ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ انتظامیہ کی جانب سے اسے لاک ڈاون کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے اور لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر انھوں نے ایسا کچھ کیا تو ان کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ ایسے میں سڑک اور ریل حادثے بھی ہو رہے ہیں۔ اورنگ آباد میں ریل کی پٹری پر سونے والے سولہ مزدور ایک ٹرین سے کٹ کر مر گئے۔ اترپردیش کے اوریا میں دو ٹرکوں کی ٹکر میں 24 مزدور ہلاک ہو گئے۔ اس کے علاوہ بھی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ کہیں پیدل والوں کو گاڑیوں کی ٹکر لگ رہی ہے تو کہیں ان کی گاڑیاں دوسری گاڑیوں کی زد میں آرہی ہیں۔ ایسے بھی واقعات پیش آئے ہیں کہ سو سو ڈیڑھ ڈیڑھ سو کلو میٹر پیدل چلنے کی وجہ سے بھوک اور تھکاوٹ نے ان کی جان لے لی۔ کچھ لوگ پیدل چلے اور کئی روز کے بعد جب اپنے گھروں کے قریب پہنچے تو موت نے انھیں آکر دبوچ لیا۔ ان حالات میں سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے کہ وہ ان بے بس مزدوروں کے لیے کچھ انتظام کرے۔ وزیر اعظم نے ابھی چند روز قبل ڈگمگاتی معیشت کو سنبھالنے کے لیے بیس لاکھ کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ لیکن کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس پیکج میں ان مزدوروں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ایک ماہ میں پانچ کلو چاول اور ایک کلو چنا دے گی۔ اس اعلان کا مزدوروں نے بھی مذاق اڑایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے کیا ہوگا اور پھر جو لوگ سڑکوں پر ہیں وہ اس راشن کا کیا کریں گے، کیسے اس کو پکائیں گے اور کھائیں گے۔ اس ملک میں جب بھی حکومتیں اپنے فرائض کے تئیں ناکام ثابت ہوتی ہیں تو عدالتوں سے لوگوں کی امیدیں بندھ جاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر عدالتیں سرگرم ہو جاتی ہیں اور عوامی فلاح و بہبود کے احکامات جاری کرتی ہیں۔ بعض اوقات عدالتیں از خود کارروائی کرتی ہیں اور مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہدایات دیتی ہیں۔ لیکن اس معاملے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ کا رویہ بڑا بے حسی والا ثابت ہوا ہے۔ اس حوالے سے عدالت میں دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بنچ نے بڑے غیر ہمدردانہ رویے کا مظاہرہ کیا۔ اس نے کہا کہ جو لوگ پیدل چل رہے ہیں ان کو کوئی کیسے روک سکتا ہے۔ جو لوگ ریل کی پٹریوں پر سو جاتے ہوں ان کے بارے میں عدالت کیا کر سکتی ہے۔ بنچ نے اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کا کام ہے ہمارا نہیں۔ بنچ نے عرضی دائر کرنے والے وکیل پر طنز بھی کیا اور کہا کہ ہر وکیل اخباروں میں خبریں پڑھ کر ہر معاملے کا ماہر بن جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں حکومت کو کوئی ہدایت دیتا اور ان لاکھوں مزدوروں کی دشواریوں کو کم کرنے کے بارے میں سوچتا۔ جبکہ یہی سپریم کورٹ ہے جس نے ارنب گوسوامی کے معاملے پر فوراً سماعت کرتے ہوئے انھیں راحت دے دی تھی۔ لیکن ادھر دوسری طرف مدراس ہائی کورٹ نے انتہائی انسانی رویے کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ ان مزدوروں کے حالات دیکھ کر کسی کی بھی آنکھیں نم ہو سکتی ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے آنسو نہیں روک سکتا۔ اس نے اسے انسانی المیے سے تعبیر کیا اور اس سلسلے میں مرکزی حکومت اور تمل ناڈو کی ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیے اور 22 مئی تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے یہ جاننا چاہا کہ کیا اس کے پاس اس کا ڈیٹا موجود ہے کہ کس ریاست میں کتنے مہاجر مزدور ہیں۔ اس نے یہ بھی جاننا چاہا کہ اب تک کتنے مزدوروں کو ٹرینوں کے ذریعے ان کے گھروں تک پہنچایا گیا۔ اس نے مرکز سے بارہ سوالات کیے ہیں اور ہدایت دی ہے کہ وہ ان کے جواب دے۔ اگر سپریم کورٹ بھی اسی قسم کے انسانی رویے کا مظاہرہ کرتا اور حکومت کو مزدوروں کی فلاح و بہبود اور ان کے فوری مسئلے کو حل کرنے کے احکامات صادر کرتا تو ممکن ہے کہ اب تک ان کے حالات بدل گئے ہوتے۔ لیکن بظاہر نہ تو حکومت کو ان کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت کو۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here