طبی افسران نے بتایا کہ چونکہ مرد حضرات اپنے گھروں سے باہر مختلف وجوہات سے سب سے زیادہ نکلتے ہیں اس لئے وہی سب سے زیادہ متاثر ہیں

لکھنؤ: 08مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) اتر پردیش میں عمر رسیدہ افراد،خواتین اور بچوں کے مقابلے میں نوجوان مرد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ وصول اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں مجموعی متاثرین میں سے 48.23 فیصدی متاثرین کی عمر 21 تا 40 سال کے درمیان ہے اور ان میں زیادہ تر مرد ہیں۔ طبی افسران نے جمعہ کو یہاں بتایا کہ چونکہ مرد حضرات اپنے گھروں سے مختلف وجوہات سے سب سے زیادہ نکلتے ہیں اس لئے وہی سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ آفیشیل اعدادوشمار کے مطابق ریاست میں 6 مئی تک 0 تا 20 سال کی عمر والے متاثرین کی تعداد 17.88 فیصدی ہے جبکہ 21 تا 40 سال درمیانی عمر والے متاثرین کی تعداد 48.23 فیصدی ہے۔ وہیں 41 تا 60 سال کے درمیان والے متاثرین کا تناسب 26.54 اور 60 سال سے اوپر کی عمر والے 7.44 فیصد ی ہیں جو کورونا سے متاثر ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے ڈیوٹی کو انجام دینے والے 64 پولیس اہلکار میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایک سینئر طبی افسرکے مطابق چونکہ بچے اور سینئر شہری گذشتہ 40 دنوں کے لاک ڈاؤن میں گھروں میں ہی ہیں۔ اس طرح سے ان کی تعداد میں کافی کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ تمام عمر گروپ میں خاتون متاثرین کی تعداد 50 فیصدی سے بھی ہے۔21 تا 40 سال کی عمروالے گروپ میں تقریبا 1430 متاثرین ہیں جن میں سے 1100 مرد ہیں اور 332 خواتین ہیں۔ اسی طرح سے 41 تا 60 سال کی عمر میں مجموعی متاثرین کی تعداد 788 ہے جن میں سے مرد 500 ہیں اور خواتین کی تعداد 288 ہے۔ 60 سال سے زیادہ عمر والے متاثرین کی تعداد 221 ہے جن میں سے مرد 169 اور خواتین 52 ہیں۔وہیں 0 تا 20 سال کی عمر والے متاثرین کی تعداد 528 ہے جن میں مذکر 393 اور مونث 135 ہیں۔ وہیں ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ریاست میں اب تک 64 پولیس اہلکار کورونا وائرس کی زد میں آئے ہیں جن میں سے دو پولیس اہلکار کی آگرہ میں موت ہوچکی ہے۔ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ پولیس متاثرین کی تعداد کانپور کی ہے جہاں تقریبا 24 پولیس اہلکار میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔جب کہ فیروزآبادمیں 17 اور وارانسی میں 11پولیس اہلکار اس وبا کے متاثر ہیں۔ ریاستی پولیس نے لاک ڈاؤن کے باوجود اپنی ڈیوٹی کرنے والے پولیس اہلکار کے صحت کے تحفظ کے لئے 10000 پی پی ای کٹ س اور این 95 ماسک خریدے ہیں۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here