الحمد للہ لاکھوں کروڑوں بار اللہ کا شکر و احسان ہے کہ ہم سب اس ماہ مبارک میں ایمان و عمل کے ساتھ زندہ ہیں اور مولائے رحیم کے حکم کے مطابق روزہ ادا کر رہے ہیں۔

*تحریر: *حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی*

2 مئی 2020(سیدھی بات نیوز سرویس) روزہ کے فوائد روزہ اسلام کا بنیادی رکن ہے شریعت میں روزہ نام ہے طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نیت روزہ کے ساتھ کھانے،پینے اور جماع سے بعض رہنے کا،روزہ کے فوائد اور منافع عملی زندگی میں اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو بیان نہیں کیا جاسکتا،حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ (بارہویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ)نے اپنی کتاب حجۃ البالغہ میں روزہ کی چھ حکمتوں اور فوائد کا ذکر فرمایا ہے جن کا خلاصہ مختصر اً ملاحظہ فرمائیں (1) روزہ بہت بڑی نیکی ہے،اس سے قوت ملکوتی بڑھتی ہے اور بیہمی طاقت(حیوانیت)کمزور ہوتی ہے۔(2)روح کا چہرہ روشن کرنے کے لیے کوئی قلعی اس سے زیادہ موثر نہیں۔(3) اورطبیعت کو مغلو ب کر نے کے لیے کوئی دوا اس سے زیادہ مفید نہیں ہے۔(4) حدیث قدسی میں فرمان باری تعالیٰ ہے”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا“اس سے معلوم ہوا کہ روزہ اعلیٰ درجہ کی عبادت و نیکی ہے اور اس کااجرو ثواب بے حد و حساب ہے۔(5) اللہ کے رسول ﷺ نے یہ خوش خبری عطا فرمائی ہے کہ جس شخص کا رمضان سلامتی سے گزر جائے گا اس کا پورا سال سلامتی میں گزرے گا۔(6)روزہ کا مقصد اللہ کی عظمت کا اظہار اور شکر گزاری ہے(رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ البالغہ جلد اول صفحہ نمبر 754-766)ماہ رمضان،اللہ تعالیٰ کی بے شمار برکتوں اور کبھی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کا خزانہ لئے ہوئے مومنوں کو مالا مال کر رہا ہے ہر لمحہ پروردگار کی بے پایاں رحمتوں کا نزول ہورہا ہے۔ *قرآن ساری دنیا کی ہدایت کے لیے ہے*
اس ماہ مقدس میں اللہ نے ساری دنیا کی رشد و ہدایت کے لیے قرآن مقدس نازل فرمایا سورہ ئے بقرآیت نمبر 185
*شَھْرُ رَمَضَانَ لَذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرَاٰن ُ ھُدَی للِّنَّاسِ*…..الخ۔رمضان وہ مہینہ ہے،جس میں قرآن نازل کیا گیا،جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضع تعلیمات جو راہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کررکھ دینے والی ہیں۔
*رمضان اور قرآن کے فضائل*
رمضان و قرآن کے بے شمار فضائل ہیں جو قرآن واحادیث کے ذخیرہ میں موجود ہیں چند اہم پیش کئے جا رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں
(1) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا۔ روزے میں انسان کا ہر نیک کام بڑھا دیا جاتا ہے ایک نیکی ستر سے سات سو اس سے زیادہ بھی لکھی جاتی ہے۔(2) قیامت میں رمضان اور قرآن روزہ داروں کی شفاعت کریں گے۔(3) قرآن میں صرف ماہ رمضان کا نام آیا۔(4)کعبہئ معظمہ مسلمانوں کو بلا کر دیتا ہے اور یہ آکر رحمتیں بانٹتا ہے گویا کعبہ کنواں اور رمضان شریف دریا ہے یا کعبہ دریا ہے تو رمضان رحمت کی بارش ہے۔(5)ہر مہینہ میں خاص تاریخیں ہیں ان تاریخوں میں خاص وقت عبادت ہوتی ہے مثلاً بقر عید کی چند مخصوص تاریخوں میں حج ہوتا ہے محرم کی دسویں تاریخ افضل ہے وغیرہ وغیرہ مگر ماہ رمضان میں ہر دن اور ہر وقت عبادت ہوتی ہے روزہ عبادت،افطار عبادت،افطار کے بعد تراویح عبادت،تراویح کا انتظار عبادت،تراویح پڑھ کر سحری کے انتظار میں سونا عبادت پھر سحری کھانا بھی عبادت غرض کہ ہر آن میں خدا کی رحمت وشان نظر آتی ہے۔(6) رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے(7) بعض علماء و مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ جو رمضان میں مر جائے اس سے سوالات قبر نہیں ہوتے(8) اس مہینہ میں شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔(9) رمضان میں کھانے پینے کا حساب نہیں۔(10) رمضان میں ابلیس قید کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور جنت آراستہ یعنی سجائی جاتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ روزہ میرے واسطے ہے اس لئے میں خود ہی اس کا اجر دوں گا۔روزہ دار میری وجہ سے اپنے شہوت(Sex)اور اپنے کھانے پینے کو چھوڑ دیتا ہے روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور دوسری خدائے تعالیٰ سے ملنے کے وقت۔
روزہ دار جھوٹ اور فحش سے بچے اور روزے ڈھال ہیں تو جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو تو وہ فحش گفتگو نہ کرے اور نہ لغو بکے اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں (بخاری و مسلم)۔روزہ دار کے منھ کی بو خدائے تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔پیارے پیارے اسلامی بھائیوں رسول گرامی کا ارشاد ہے جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا اور برے کام کرنا نہ چھوڑے تو خدائے تعالیٰ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ دنیا میں کھانا پیناچھوڑدے(بخاری شریف)
*روزہ دار کی فضیلت قرآن وحدیث میں*
روزہ ایک پوشیدہ عمل ہے جسے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی اور آگاہ نہیں ہوتااس بنا پر بزرگوں نے اَسَّایَحُوْن سے جو قرآن میں وارد ہو اہے روزہ مراد لیا ہے کہ صائم (روزہ دار)اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سیر و سیاحت کرتا ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا سورہ زمر آیت نمبر 10/ *اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَاب*۔بیشک صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا(ترجمہ کنزالایمان)مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں مشائخ کرام نے فرمایا صابروں سے مراد روزہ دار ہیں کہ صبر روزہ کا دوسرا نام ہے۔پس روزہ داروں کو بے حساب ثواب دیا جائے گا(کشف القلوب جلد اول صفحہ 696)
کیمیائے سعادت میں حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں روزہ کی دو خاصیتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ حق تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے کے لائق ہوا(2) ایک یہ کہ روزہ کی حقیقت ترک شہوات ہے اور یہ باطنی امر ہے کہ لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے،ریا کو اس میں کچھ دخل نہیں۔(2) دوسرے یہ کہ ابلیس خدائے تعالیٰ کا دشمن ہے اور شہوات ابلیس کا لشکر ہے اور روزہ اس کے لشکر کو شکست دیتا ہے کیونکہ روزہ کی حقیقت ترک شہوات ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان انسان کے باطن میں اس طرح گردش کرتا ہے جیسے خون بدن میں رواں ہے،شیطان کی راہ بھوک سے تنگ کرو اور حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا روزہ ڈھال ہے یعنی مومن کے لیے سپر ہے۔
روزے کے آداب یہ بھی روزہ کے آداب میں داخل ہے کہ دن میں زیادہ نہ سوئے تاکہ بھوک پیاس کا لطف معلوم ہو،قویٰ کی کمزوری کا احساس ہو دل کا تزکیہ ہواسی طرح ہر رات اپنے معدے کو خالی رکھے تاکہ تہجد اور ذکر واذکار میں مشغولیت آسان ہو اور شیطان اس کے دل کے پاس نہ منڈلا سکے (احیاء العلوم)
جنت کا ایک دروازہ روزہ داروں کے لیے مخصوص ہوگا (1) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جنت کا دروازہ کھٹکھٹایا کرو،لوگوں نے پوچھا کس چیز سے؟ فرمایا گیا بھوک سے (2)حضور ﷺ نے فرمایا روزہ عبادت کا دروازہ ہے،روزہ کی سب فضیلتیں اسی وجہ سے ہیں،سب کی خواہشات عبادت کی مانع ہیں اور سیر ہوکر کھانا خواہشات کی مدد کرتا ہے،بھوک خواہشات کو مار دیتی ہے۔(3)حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازے کو ”ریان“ کہتے ہیں اس دروزے سے جنت میں صرف روزہ رکھنے والے ہی داخل ہونگے(متفق علیہ)۔
*تراویح اور ختم قرآن* تراویح رمضان میں پڑھی جانے والی عبادت ہے،رمضان اور قرآن کا آپس میں گہرا ربط و تعلق ہے ارشاد باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیں سورہ بقرہ آیت نمبر 185/ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے ہدایت کے لیے اور رہنمائی کے لیے اور فیصلہ کی روشن باتیں ہیں، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے(ترجمہ کنز الایمان)اللہ کے رسول ﷺ کے فرمان کے مطابق قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں ہی صائم و قاری کے لیے اللہ کے دربار میں سفارش کریں گے(صحیح الترغیب والترہیب جلد اول صفحہ نمبر 973)۔رمضان المبارک میں قرآن مقدس نازل ہوالہٰذا پورے ماہ ہی اس کی تلاوت خصوصی طور پر تراویح میں پڑھنا سننا ہمیشہ پورے مہینہ ہی ہونی چاہیئے آج کل جگہ جگہ تراویح پڑھنے پڑھانے کا رواج چل پڑا ہے شرعاً تو جائز ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن کو اتنی تنگ مدت میں نہ صحیح ڈھنگ سے پڑھا جا سکتا ہے اور نہ سنا جا سکتا ہے لوگ تین دن،پانچ دن،دس دن میں قرآن ختم کرنے کے لیے مسجد سے الگ کوئی جگہ انتظام کر لیتے ہیں یہ مناسب نہیں اس طرح تراویح ختم قرآن کی عبادت محض ایک رسم بن کر رہ گئی ہے جسے جلد از جلد ختم کر کے بری الذمہ ہوجانا مقصود ہوتا ہے اور پورے مہینے آرام سے گھومنے پھرنے لگتے ہیں بلکہ نا چیز کا مشاہدہ ہے کہ عوام تو عوام حفاظ کرام بھی آزادانہ گھومنے پھرنے لگتے ہیں،تراویح کے ساتھ فرائض نماز سے بھی غفلت برتنے لگتے ہیں،استغفر اللہ استغفراللہ..
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاجس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا (تراویح پڑھی)اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں (بخاری شریف متر جم جلد اول صفحہ نمبر 122)یقینا یہ فضیلت اس خوش نصیب کو حاصل ہوگی جو پورے رمضان قیام اللیل کرے گاتراویح پڑھے گا۔
*لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے*
عبادات ومناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے قیمتی لمحات مولائے کریم قرآن مقدس میں ارشاد فرما رہا ہے سورہئ قدر ”بے شک ہم نے اس کو (قرآن)کو شب قدر میں اتارا ور تم جانتے ہو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے،اس میں فرشتے جبرئیل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے وہ سلامتی ہے طلوع فجر تک(ترجمہ کنز الایمان)۔شب قدر کی اہمیت کس قدر اہم ہے کہ اس کی شان میں اللہ پاک نے پوری ایک سورت ناز ل فرمائی۔حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بار جب رمضان آیا تو رسول پاک ﷺ نے فرمایا”تمہارے پاس ایک ایسا مہینہ آیاجس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، جوشخص اس سے محروم رہا گویا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہااور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا مگر وہ شخص جو حقیقتاً محروم ہے“ (ابن ماجہ)
شب قدر کا تحفہ مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ جو کوئی شب قدر میں سورہ ئے قدر سات بار پڑھتا ہے،اللہ پاک اسے ہر بلا سے محفوظ فرما دیتا ہے اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے جنت کی دعا کرتے ہیں اور جو کوئی جمعہ کے روز جمعہ سے قبل تین بارپڑھتا ہے اللہ پاک اسے ہر بلا سے محفوظ فرماتا ہے اور اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے(نزہۃ المجالس)۔
*رمضان میں آپ ﷺ کی بے انتہا فیاضی اور جبرئیل امین کے ساتھ دورہۓ قرآن* حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھماکا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھلائی کے معاملے میں (معمولاً)تمام انسانوں سے زیادہ فیاض تھے اور خاص طور پر آپ رمضان میں بے انتہا فیاض ہوتے جبرئیل علیہ السلام رمضان کے زمانے میں ہر رات کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے اور حضور انہیں قرآن مجید سناتے تھے جب جبرئیل امین آپ سے ملتے تو حضور ﷺ بھلائی کے معاملے میں چلتی ہوا سے بھی زیادہ فیاض ہوتے تھے وہ ہوا جوچلنے کے بعدکہیں رکتی نہیں اور ہر چیز پر گزرتی ہے اور ہر جگہ پہنچتی ہے (متفق علیہ)۔
یوں تو قرآن مجید جس وقت نبی ﷺ پر نازل ہوتا تھا اسی وقت آپ ﷺ کے دل پر نقش ہو جاتا تھااور پھر آپ کبھی بھولتے نہیں تھے رمضان المبارک کے مہینے میں (کہ جس میں قرآن مجید کے نزول کا آغاز ہوا تھا)حضرت جبرئیل امین نبی ﷺ کے پاس آتے تھے اور جتنا قرآن اس وقت تک نازل ہوچکا ہوتا تھا وہ سارا رسول اللہ ﷺ انہیں سناتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید پیش کیا جاتا تھا مگر جس سال وصال فرمایا اس میں دو مرتبہ آپ کو قرآن مجید سنایا گیا(بخاری شریف) یعنی دو مرتبہ قرآن مجید آپ نے سنایا اور دو مرتبہ جبرئیل علیہ السلام نے سنایا۔
اللہ تبارک تعالیٰ ہم تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک کے ہر پل کے فیوض و برکات سمیٹ نے کی توفیق رفیق عطا فرمائے اور اس ماہ مبارک میں خوب خوب عبادت و نیکی و تلاوت قرآن مجید کی توفیق کے ساتھ عملی زندگی میں ایمان وعقیدہ کی پختگی پیدا فرما کر ہم سب کی زندگی میں انقلاب پیدا فرمائے آمین ثم آمین:-

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here