ایسا پہلی بار نہیں ہے جب کرناٹک اسمبلی میں صحافیوں پر پابندی لگائی گئی ہو۔ اس سے پہلے 18 فروری کو کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر وشویشور ہیگڑے کاگیری نے اسمبلی میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگائی تھی۔

09مارچ 2020 (سیدھی بات نیوز سرویس)  بی جے پی حکومت میں میڈیا پر پابندی کا دور جاری ہے۔ حال ہی میں ملیالم کے دو نیوز چینلوں پر پابندی لگانے اور زبردست تنقید کے بعد فیصلہ واپس لینے کے بعد اب کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے تازہ فرمان جاری کیا ہے۔ میڈیا میں خبروں کے مطابق کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے اسمبلی کی کارروائی کے دوران میڈیا کوریج پر پابندی لگا دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پہلے اسمبلی کی کارروائی کے دوران میڈیا کیمروں پر روک لگی تھی اور بعد میں اسمبلی ہاؤس، اور پھر آخر میں اسمبلی لاؤنج میں میڈیا کی انٹری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ میڈیا کو صرف پریس روم میں آنے کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے جب کرناٹک اسمبلی میں صحافیوں پر پابندی عائد کی گئی ہو۔ اس سے پہلے 18 فروری کو کرناٹک اسمبلی کے اسپیکر وشویشور ہیگڑے کاگیری نے اسمبلی میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اسپیکر کے دفتر کے ذریعہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کسی بھی وقت اسمبلی میں داخل نہیں ہو سکتے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ اراکین اسمبلی اجلاس کے دوران اپنے انتخابی حلقہ سے ایوان میں آتے ہیں۔ یہ ان کا نجی وقت ہوتا ہے جب وہ وہاں رہتے ہیں۔ جب صحافی ان سے ملنے کے لیے اسمبلی ہاؤس میں آتے ہیں تو یہ ان کی پرائیویسی پر حملہ ہے۔ اس سے قبل 2019 میں اسمبلی اسپیکر نے نجی چینلوں پر ایوان کی کارروائی کے براہ راست نشریہ پر روک لگانے کا حکم دیا تھا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here