5مارچ 2020 (سیدھی بات نیوز سرویس)  واشنگٹن میں ایک وفاقی عدالت نے عراق میں ایک امریکی فوجی خاتون مترجم پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے روابط رکھنے والے افراد کو ایسی معلومات فراہم کیں جن میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے مُخبروں کے نام بھی شامل تھے۔   بدھ کے روز جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مینیسوٹا ریاست سے تعلق رکھنے والی 61 سالہ خاتون مریم طہ تھامسن نے دسمبر کے وسط میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ بطور مترجم کام کرنے کا معاہدہ کیا۔ مریم کا سیکورٹی پرمٹ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 29 دسمبر کو ایران کی حلیف عراقی ملیشیاؤں کے مراکز پر امریکی لڑاکا طیاروں کے حملوں کے ایک روز بعد مریم نے کمپیوٹر میں امریکی فوج کی خصوصی فائلوں میں گھسنا شروع کر دیا۔ ان فائلوں میں امریکی فوج کے ذرائعوں کی شناخت کے علاوہ ان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات بھی شامل تھیں۔ رواں سال 27 فروری کو مریم کو حراست میں لیے جانے کے بعد اس نے تحقیق کاروں کے سامنے ایک لبنانی شہری کو مُخبروں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا اعتراف کر لیا۔ اس کے علاوہ مریم نے حزب اللہ ملیشیا سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کے ایک مقصد کے حوالے سے بھی متنبہ کیا۔ امریکی وزارت انصاف کے مطابق مذکورہ لبنانی شہری لبنانی حکومت کے ایک ذمے دار سے روابط رکھتا ہے اور اس کے حزب اللہ کے ساتھ واضح تعلقات ہیں۔ مریم پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے قومی دفاع سے متعلق معلومات غیر ملکی حکومت کے نمائندوں یعنی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو منتقل کیں۔ اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here