کسی بھی حالت میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر جیسے سیاہ قوانین قابل قبول نہیں: محمد فرقان

30 جنوری(سیدھی بات نیوز سرویس) بنگلور، آئین مخالف شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ہندوستان کے چپے چپے میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔اسی کے پیش نظر 29/ جنوری کو مختلف تحریکوں اور تنظیموں کی جانب سے بھارت بند کیا گیا تھا۔بھارت بند کو کامیاب بنانے کیلئے مختلف انداز میں احتجاجی مظاہروں کا بھی سلسلہ جاری رہا۔شہر بنگلور کے علاقے الیاس نگر میں نوجوان طلبہ نے ایک زبردست احتجاجی ریلی نکالی۔اس موقع پر مرکز تحفظ اسلام ہند کے ڈائریکٹر اور مجلس احرار بنگلور کے صدر محمد فرقان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھی ظالم حکومت اگر یہ سمجھتی ہیکہ وہ ملک کے دستور اور جمہوریت کو بآسانی نیست و نابود کردے گی تو وہ انکی غلط فہمی ہے۔اگر وہ انگریزوں کی پالیسیوں پر چلتے ہوئے مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرکے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی مجاہدین آزادی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انکی حکومت کو نکال پھیکیں گے۔انہوں کے کہا کہ یہ ملک دستور کے مطابق چلے گا نہ کہ آر ایس ایس اور ہندوراشٹر کے ایجنڈوں پر۔محمد فرقان نے بتایا کہ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کا آپس میں براہ راست تعلق ہے اور یہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین میں تمام مذاہب والوں کو یکساں حقوق دیے گئے ہیں۔یہ ملک کی تاریخ کا سیاہ باب ہیکہ یہاں پہلی بار مذہب کی بنیاد پر کوئی قانون لایا گیا۔انہوں نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ ملک کا سیکولر اور باعزت شہری مذکورہ آئین مخالف قوانین کے خلاف سڑکوں پر اترا ہوا ہے۔مرکز کے ڈائریکٹر نے کہا کہ جب تک حکومت یہ کالا قانون واپس نہیں لیتی تب تک احتجاجی مظاہرے جاری رکھیں گے اور ملک کی جمہوری اور سیکولر آئین کا تحفظ کرتے رہیں گے۔چاہے اس کے لیے ہمیں اپنی جان و مال کو بھی قربان کرنا پڑے۔ہمیں کسی بھی حالت میں یہ کالے قوانین قابل قبول نہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی کے دھوکے میں آکر کوئی بھی اپنے دستاویزات نہ دکھائیں۔اگر ہم سارے متحد ہوگئے تو حکومت کو یہ کالا قانون واپس لینا ہی پڑے گا۔قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر کثیر تعداد میں نوجوانان محلہ، طلبائے عزیز، اور کچھ بزرگ شخصیات کے علاوہ احمد خطیب خان، مولانا محافظ احمد،محمد رضوان، عبد الرحمن، نوید احمد، محمد شعیب، محمد کاشف وغیرہ بطور خصوصی شریک تھی۔ریلی میں ہم لیکے رہیں گے آزادی، ہلا بول، تانا شاہی نہیں چلے گی، کاغذ نہیں دکھائیں گے جیسے مختلف نعرے بھی لگائے جاتے رہے۔ریلی کے ساتھ ساتھ ڈور ٹو ڈور مہم بھی کی گئی جس میں لوگوں کو مذکورہ سیاہ قوانین سے آگاہ کراتے ہوئے کاغذ نہ دکھانے کی اپیل کی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here