28 جنوری(سیدھی بات نیوز سرویس) سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فيصل بن فرحان آل سعود کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک عراق سے امریکی افواج کا کوچ نہیں چاہتا۔ پیر کے روز امریکی نشریاتی ادارے کیبل نیوز نیٹ ورک CNN سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو اندیشہ ہے کہ امریکی انخلا کے نتیجے میں مشرق وسطی کم محفوظ ہو جائے گا۔سعودی وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں امریکی موجودگی نے “داعش” قلع قمع کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ امریکی وجود اس دہشت گرد تنظیم کی واپسی روکنے کی کنجی تھی۔سی این این کے ساتھ خصوصی گفتگو میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ “امریکا نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کا قابل اعتماد حلیف ہے۔ یہ ہی معاملہ (صدر ڈونلڈ) ٹرمپ کی انتظامیہ کا ہے۔ ہم صدر ٹرمپ، وزارت خارجہ اور پینٹاگان کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر رہے ہیں۔ ہم علاقائی سیکورٹی میں رابطہ کاری انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت 3000 کے قریب امریکی فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں”۔بن فرحان کے مطابق امریکی انخلاء سے “داعش” کی واپسی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ “داعش” کی شکست بڑی حد تک بین الاقوامی اتحاد کی مرہون منت ہے جس میں امریکا بھی شامل ہے۔سعودی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ “ہمارے خیال میں جغرافیائی طور پر داعش کی شسکت کے باوجود یہ تنظیم اب بھی خطرہ ہے۔ یہ بات نہایت اہم ہے کہ عالمی برادری عراقی فورسز کو سپورٹ کرے تا کہ وہ بیدار اور چوکنا رہے۔ اس حوالے سے امریکی وجود اہمیت کا حامل ہے”۔شہزادہ فیصل بن فرحان کے نزدیک امریکا نے اپنے دفاع کا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو حملے کا نشانہ بنایا۔ سعودی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کی اس بات سے اتفاق کیا کہ سلیمانی کی موت کے بعد خطہ زیادہ محفوظ ہو گیا ہے۔ بن فرحان کے مطابق مذکورہ حملے کے بعد بھی انہیں ایران کے رویے میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے بیانات کسی طور بھی مثبت نہیں “تاہم ہم انہیں ایسے طریقے سے تصرف کی دعوت دیتے ہیں گے جو علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنائے”۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here