18 جنوری(سیدھی بات نیوز سرویس) شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی مخالفت کا ایک نیا انداز گزشتہ دنوں دیکھنے کو ملا۔ معاملہ کیرالہ کا ہے جہاں ایک شخص نے اپنی شادی میں اسٹیج پر ایک بورڈ لگوایا اور اس میں شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے کی اپیل کی گئی۔ پورے ملک میں شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان کیرالہ کی اس شادی کی خبر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے۔کیرالہ میں ہوئی اس شادی کی جو تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اس میں دولہا لال رنگ کی شرٹ اور روایتی سفید لنگی میں اپنی دلہن کے ساتھ اسٹیج پر کھڑا ہے اور اس کے ٹھیک بغل میں ایک بورڈ رکھا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے ’’ہماری شادی میں آنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ لیکن برائے کرم آپ دوبارہ بی جے پی کو ووٹ نہ دیں۔‘‘ اس پیغام کے بعد نیچے میں بڑے حروف ’رجیکٹ سی اے اے‘ (شہریت قانون کو مسترد کریں) لکھا ہوا ہے۔ویسے کچھ شادیوں میں شہریت قانون کی حمایت میں بھی آوازیں اٹھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اتر پردیش کے سنبھل ضلع کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے جہاں موہت مشرا اور سونم پاٹھک 3 فروری کو شادی کرنے جا رہے ہیں اور انھوں نے اپنی شادی کارڈ پر شہریت قانون کے ساتھ ساتھ این آر سی کی حمایت کی ہے۔ مدھیہ پردیش واقع نرسنگھ پور ضلع کے رہنے والے پربھات نامی شخص کی شادی 18 جنوری (ہفتہ) کو ہونی ہے اور انھوں نے بھی اپنے کارڈ پر شہریت قانون کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے کارڈ پر لکھوایا ہے کہ ’’میں شہریت ترمیمی قانون کی حمایت میں بیداری پھیلانا چاہتا ہوں کہ لوگ اس قانون کی چیزوں کو سمجھیں۔‘‘دراصل بی جے پی اور آر ایس ایس شہریت قانون، این آر سی و این پی آر کے خلاف پورے ملک میں ہو رہے مظاہروں سے بہت پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس نے ان قوانین کی حمایت میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جگہ جگہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں بھی تقاریب منعقد کر کے لوگوں کو شہریت قانون کے فائدے گنا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر تو انھیں عوام کی زبردست مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ شادی کارڈ پر شہریت قانون کی حمایت میں لکھے گئے جملے کو بی جے پی و آر ایس ایس کی اسی مہم سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی و آر ایس ایس کے کارکنان نے اپنی شادی کے کارڈ کو شہریت قانون کی حمایت کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here