امریکہ کی سمجھوتے سے دستبرداری کو تو ایک طرف چھوڑیں اس نے کسی ایک وعدے تک کو پورا نہیں کیا: وزیر خارجہ جواد ظریف

17 جنوری(سیدھی بات نیوز سرویس) ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ہم دوبارہ سے جوہری مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ظریف نے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم نے جوہری سمجھوتہ امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ نہیں کیا تھا اور اب ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی سمجھوتے کی فکر میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی صورت میں اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی کہ ہم ان کے بعد کے صدارتی امیدواروں میں سے جو بائڈن، الزبتھ وارن یا پھر برنی سینڈرس کے ساتھ کسی نئے سمجھوتے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔ظریف نے کہا ہے کہ ایران ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے لیکن جوہری سمجھوتے پر دوبارہ مذاکرات سے انکاری ہے۔انہوں نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے اختلافات کے حل میکانزم کو فعال کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا ہے کہ ” 3 یورپی ممالک کا دعوی ہے کہ وہ جوہری سمجھوتے کے پابند ہیں لیکن انہوں نے ایران سے پیٹرول کی درآمد بند کر دی ہے، ایران کے ساتھ بینکاری پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ سوِیفٹ کاروائیوں کو بند کر دیا ہے اور خلافِ وقف قوانین کا اطلاق نہیں کیا۔ یورپی فرمیں ایران سے نکل گئی ہیں اور وہ ہمیں پابندیوں سے معاف ضروریات یعنی خوراک اور ادوایات تک کی فروخت نہیں کر رہے”۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے مزید کہا ہے کہ “3 یورپی ممالک نے دیگر ممالک پر بھی دباو ڈالا، جھوٹ بولا اور سمجھوتے سے دستبردار ہو گئے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ 19 ویں صدی میں جی رہے ہیں۔ ایران نے خلافِ وقف قانون کو فعال کیا۔ جوہری سمجھوتے کو کھوکھلا کرنے والا ایران نہیں یورپ ہے۔ امریکہ کی سمجھوتے سے دستبرداری کو تو ایک طرف چھوڑیں اس نے کسی ایک وعدے تک کو پورا نہیں کیا۔

(ٹی آر ٹی)

 

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here