انہوں نے یہ باتیں وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں خطے کے ممالک کے دورے کے پہلے مرحلہ میں ایران کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں کیں

13 جنوری(سیدھی بات نیوز سرویس) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی ایرانی ترجیح کو سراہتا ہے، امید ہے ایران درپیش صورتحال سے اپنی روایتی دانشمندی کے ساتھ نبردآزماہو گا،کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت دیں گے نہ خطے میں کسی تنازعہ کا حصہ بنیں گے۔انہوں نے یہ باتیں وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں خطے کے ممالک کے دورے کے پہلے مرحلہ میں ایران کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں کیں۔ وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد مشرق وسطیٰ مین حالیہ کشیدگی میں کمی لانا اور سفارتی ذرائع سے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ وزیرخارجہ نے ایران صدر کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی جبکہ ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف سے بھی الگ سے ملاقات ہوئی کی۔ ان ملاقاتوں میں مشرق وسطی، خلیجی خطے کی صورتحال اور رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیرخارجہ نے ایران کے ساتھ پاکستان کے خوشگوار برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان استوار تاریخی کثیرالجہتی تعلقات کی مزید مضبوطی کے عزم کا اظہارکیا۔ حالیہ واقعات پر پاکستان کے نکتہ نظر کو بیان کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے انتہائی ضبط وتحمل برتنے اور تمام اطراف سے کشیدگی میں کمی کے لئے فوری اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کا حل ہونا چاہئے۔وزیرخارجہ نے خطے میں اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو سے ایرانی قیادت کو آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ کشیدگی میں کمی اور جنگ سے بچنے کے حق میں ایک عمومی اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔ وزیرخارجہ نے زوردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی پاکستان خطے میں کسی جنگ یا تنازعہ کا ہی حصہ بنے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان صرف امن میں حصہ دار بن سکتا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان تناو اور کشیدگی میں کمی کی ایرانی ترجیح کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ایران درپیش صورتحال سے اپنی روایتی دانشمندی کے ساتھ نبردآزماہو گا۔ وزیرخارجہ نے زوردیا کہ صورتحال کی پیچیدگی کے باوجود پاکستان امن کے لئے کام جاری رکھے گا کیونکہ یہ خطے اور دنیا کے اجتماعی مفاد میں ہے۔ اس تناظر میں پاکستان سب فریقین پر زوردیتا ہے کہ معاملے میں تعمیری انداز اپنائیں تاکہ امن برقرار رہے جبکہ تنازعات کا سفارتی ذرائع سے حل تلاش کیاجائے۔وزیرخارجہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت اور اس تنازعہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جلد حل کے لئے ایران کی بھرپور و مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے دورہ کو سراہا اور اس اہمیت کو اجاگر کیا جو ایران برادر ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے درمیان استوار اس تعلق کا کلیدی پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ ایران کشیدگی اور تناو میں کمی لانے اور خطے میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس ضمن میںذمہ داری تمام اطراف پر ہے۔ ایرانی قیادت نے سفارتی وسیاسی ذرائع سے امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کے لئے سہولت کاری سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ ایران نے ماضی میں وزیراعظم کے اقدام کی حمایت کی تھی اور ہم ان کی موجودہ کوششوں کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔ قبل ازیں وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی مشہد شہر گئے جہاں انہوں نے حضرت امام رضا کے روضہ اقدس پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔وزیر خارجہ کے دورہ کے اگلا مرحلہ سعودی عرب ہے۔وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کشیدگی میں کمی کی ایرانی ترجیح کو سراہتا ہے، امید ہے ایران درپیش صورتحال سے اپنی روایتی دانشمندی کے ساتھ نبردآزماہو گا،کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت دیں گے نہ خطے میں کسی تنازعہ کا حصہ بنیں گے۔انہوں نے یہ باتیں وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں خطے کے ممالک کے دورے کے پہلے مرحلہ میں ایران کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں کیں۔ وزیر خارجہ کے دورے کا مقصد مشرق وسطیٰ مین حالیہ کشیدگی میں کمی لانا اور سفارتی ذرائع سے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ وزیرخارجہ نے ایران صدر کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقات کی جبکہ ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر جواد ظریف سے بھی الگ سے ملاقات ہوئی کی۔ ان ملاقاتوں میں مشرق وسطی، خلیجی خطے کی صورتحال اور رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیرخارجہ نے ایران کے ساتھ پاکستان کے خوشگوار برادرانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان استوار تاریخی کثیرالجہتی تعلقات کی مزید مضبوطی کے عزم کا اظہارکیا۔ حالیہ واقعات پر پاکستان کے نکتہ نظر کو بیان کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے انتہائی ضبط وتحمل برتنے اور تمام اطراف سے کشیدگی میں کمی کے لئے فوری اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کا حل ہونا چاہئے۔وزیرخارجہ نے خطے میں اپنے ہم منصبوں سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو سے ایرانی قیادت کو آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ کشیدگی میں کمی اور جنگ سے بچنے کے حق میں ایک عمومی اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔ وزیرخارجہ نے زوردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی پاکستان خطے میں کسی جنگ یا تنازعہ کا ہی حصہ بنے گا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان صرف امن میں حصہ دار بن سکتا ہے۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان تناو اور کشیدگی میں کمی کی ایرانی ترجیح کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ایران درپیش صورتحال سے اپنی روایتی دانشمندی کے ساتھ نبردآزماہو گا۔ وزیرخارجہ نے زوردیا کہ صورتحال کی پیچیدگی کے باوجود پاکستان امن کے لئے کام جاری رکھے گا کیونکہ یہ خطے اور دنیا کے اجتماعی مفاد میں ہے۔ اس تناظر میں پاکستان سب فریقین پر زوردیتا ہے کہ معاملے میں تعمیری انداز اپنائیں تاکہ امن برقرار رہے جبکہ تنازعات کا سفارتی ذرائع سے حل تلاش کیاجائے
وزیرخارجہ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت اور اس تنازعہ کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جلد حل کے لئے ایران کی بھرپور و مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے دورہ کو سراہا اور اس اہمیت کو اجاگر کیا جو ایران برادر ملک پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے درمیان استوار اس تعلق کا کلیدی پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔موجودہ صورتحال کے تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ ایران کشیدگی اور تناو میں کمی لانے اور خطے میں امن وسلامتی برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس ضمن میںذمہ داری تمام اطراف پر ہے۔ ایرانی قیادت نے سفارتی وسیاسی ذرائع سے امن کے فروغ اور کشیدگی میں کمی لانے کے لئے سہولت کاری سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ ایران نے ماضی میں وزیراعظم کے اقدام کی حمایت کی تھی اور ہم ان کی موجودہ کوششوں کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔ قبل ازیں وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی مشہد شہر گئے جہاں انہوں نے حضرت امام رضا کے روضہ اقدس پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔وزیر خارجہ کے دورہ کے اگلا مرحلہ سعودی عرب ہے۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here