ترکی اور بالٹک علاقے کی سلامتی ایک دوسرے کے مساوی ہے

12 ڈسمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) وزیر ِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ ترکی کے خلاف پابندیوں کے فیصلے کی صورت میں امریکہ کے زیر استعمال ترک ضلع ادانہ کے انجیر لک فوجی ہوائی اڈے اور ملاتیا کے راڈار اڈے کا معاملہ ایجنڈے میں لایا جا سکتا ہے۔ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دینے والے وزیر چاوش اولو کا کہنا تھا کہ روس سے خریدے گئے ایس۔ 400 فضائی دفاعی نظام اور ایف۔35 لڑاکا طیاروں کے درمیان قانونی اور سیاسی طور پر کوئی تعلق موجود نہیں، امریکہ نے ہماری تمام تر تجاویز کو ٹھکرا دیا ہے، انہیں بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ زبردستی سے کسی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ اگر امریکہ نے اس معاملے پر کسی مثبت موقف کا مظاہرہ نہ کیا تو ہم بھی اسی طرز کو اپنائیں گے۔ ایس۔ 400 ایک حملہ آور نظام نہیں بلکہ محض ایک دفاعی نظام ہے، اگر ہم ایف۔ 35 حاصل نہ کرسکے تو ہمیں دوسرے متبادل تلاش کرنے پڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کافیصلہ کیا تو پھر امریکہ کے ترکی میں فوجی اڈوں کا معاملہ ایجنڈے میں لایا جا سکتا ہے۔امریکہ کے شام کے بعض علاقوں پر قبضے کو جاری رکھنیو الی دہشت گرد تنظیم وائے پی جی/PKK سے تعلقات جاری ہونے پر زور دینے والے چاوش اولو نے بتایا کہ “امریکہ کی اس تنظیم کو اعانت جرم اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے زمرے میں آتی ہے۔”نیٹو کے بعض رکن ممالک کی وائے پی جی کو دہشت گردی کے خطرے کے طور پر تشریح کرنے کے معاملے میں ہچکچاہٹ سے کام لینے کا حوالہ دینے والے ترک وزیر نے بتایا کہ “ترکی اور بالٹک علاقے کی سلامتی ایک دوسرے کے مساوی ہے۔ ان دونوں علاقوں کے سلامتی منصوبے اعلان کے منتظر ہیں۔ اگر ہمارے متعلق منصوبے کو جاری نہ کیا گیا تو پھر دوسرا بھی جاری نہیں کیا جا سکے گا۔ اس معاملے میں رعایت کی گنجائش نہیں۔ نیٹو پر ترکی کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ترکی اور لیبیا کے مابین بحیرہ روم میں بحری اختیارات کے حوالے سے سمجھوتے کا بھی ذکر کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے بتایا کہ “یہ معاہدہ قانون کے مطابق ہے۔ ہم لیبیا کے ہمراہ قدرتی وسائل کی تلاش کا کام کر سکتے ہیں۔ یونان یا پھر یورپی یونین کا اس معاملے میں عالمی قوانین و عدالتوں سے تعلق رکھنے والے معاملات میں کسی عدالت کی طرح فیصلہ صادر ایک غلط فعل ہے۔لیبیا کو فوجی روانہ کرنے کے متبادل پر بھی جائزے پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ “لیبیا میں اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم کردہ ایک انتظامیہ موجود ہے۔ لہذا ہمارے اس سے تعلقات اور معاہدے قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر لیبیا نے اس چیز کا مطالبہ کیا تو پھر ہم اس پر غور کر سکتے ہیں۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here