02 ڈسمبر(سیدھی بات نیوز سرویس) بیدر۔یکم/ڈسمبر۔ ۔ہمارا جو طرزِ تعلیم ہے وہ انسان کو انسان نہیں بناسکا‘ اس طرزِ تعلیم نے ہمیشہ انسان کو دھوکہ ہی دیا ہے۔یہ نام نہاد ماڈرن اور سیکولر ایجوکیشن جب وجود میں آیا اور تیزی کے ساتھ پھیلا تو اچھی امید یں بندھیں۔ یہ خیال کیا گیا کہ اب انسان کی ترقی ہوگی۔ انسانوں کے مسائل حل ہوں گے‘ضرورتیں پوری ہوں گی‘ امن اور انصاف کا دور دورا ہوگا۔خواتین کو بنیادی حقوق حاصل ہوں گے۔ مردوں کا غلبہ ختم ہوگا لیکن ایسا کبھی ہوا نہیں۔انسان صرف دھوکہ ہی دھوکہ کھایا اور مسلسل کھاتا رہا۔یہ وہ باتیں تھیں جو مولانا سجاد نعمانی نے بیدر شہر میں آج بروز اتوار شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے تحت منعقدہ دو روزہ ”بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس“ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ جب بادشاہت کا درو ختم ہوا بادشاہی نظام کا اختتام ہوا جمہوریت آئی تب بھی طرزِ تعلیم یہی رہا۔ اور انسان نے دھوکہ کھایا۔انفارمیشن ٹیکنا لوجی آئی تو یہ خیال کیا گیا کہ اب ایک نیانظام آئے گا۔تمام طبقات ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ساری دنیا ایک ”گلوبل ولیج“ بن جائے گی۔دور یوں سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں وہ ختم ہوجائیں گی۔ترقی پر ترقی ہوگی‘ لیکن افسوس کہ یہاں بھی انسان نے مات کھائی۔اس ماڈرن ایجوکیشن نے انسان کو لالچی اور خود غرض بنادیا۔مولانا سجاد صاحب نے مثال دی کہ جتنے بڑے بڑے گھپلے ہوئے ہیں کروڑوں‘کھربوں کی جو بد عنوانیاں ہوئیں اور ہورہی ہیں انہی اعلی تعلیم یافتہ افراد کے ہاتھوں ہورہی ہیں۔ا س لئے کہ ان کے اندر اقدار کا فقدان ہے۔اگر اقدار نہ ہوں تو سماجی ضرورتیں کبھی پوری نہیں ہوسکتیں۔مولانا نے سامعین سے جن میں غیر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تھی گذارش کی کہ وہ تعصب کی عینک کے بغیر‘خالی ذہن ہوکر قُرآن کا مطالعہ کریں۔مسلمان نہیں انسان سمجھ کر اس کتاب کو پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ اس پچھڑی ہوئی دنیا میں ترقی حضور اقدس ؐ کی آمد کے بعد ہوئی۔اس لئے کہ آپؐ نے انسان کو یہ باور کرایا کہ اللہ تعالی نے جو چیزیں بنائی ہیں وہ عبادت کیلئے نہیں ان پر تحقیق کیلئے بنائی ہیں۔پیغمبر سے قبل لوگ پیڑ پودوں‘ پتھروں‘نباتات کی عبادت کیا کرتے تھے۔پھر آپ ؐ نے ان کی سوچ بدلی۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا نظام ِ تعلیم لایا جائے جس سے صحیح معنوں میں تبدیلی آئے‘اس میں اساتذہ‘طلباء و طالبات کو اہم رول ادا کرنا ہے۔بالخصوص ہمارے پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کی تمنائیں قلیل اور ان کے مقاصد طویل ہوں۔وہ صرف اپنے لئے نہ جئیں بلکہ سماج کیلئے جئیں‘اس لئے کہ آپ ملک کا مستقبل ہیں۔آپ سے سماج کو اور ملک کو بھی برابر فائدہ پہنچنا ہے۔ آج دنیا میں ہر سُو مایوسی ہے۔جو سوپر پاور ممالک ہیں وہاں کے لوگ پریشان حال ہیں نہ چین ہے نہ سکون‘ایک مایوسی ہے‘ دیوانگی ہے اس لئے کہ نظریہ حیات نے انسان کو انسان نہیں جانور بنا دیا ہے۔آج افرا تفری ہے اور برسوں سے دنیا کا ماحول ایسا ہی رہا ہے۔بے چینی کے بعد چین کا دائرہ بنتا ہے‘آج جو بد نظمی کا عالم ہے آج سے بیس‘بائیس برس بعد وہ باقی نہیں رہے گا۔ایک تغیر آئے گا اور یہ تبدیلی آپ طلباء و طالبات سے آئے گی۔آپ تمام بچے خوش قسمت ہیں کہ آپ اس دور کے ہیں اور اس تبدیلی میں آپ کو ایک اہم رول ادا کرنا ہے۔چند دن سختیوں کے برداشت کرلیں‘پھر دیکھیں کہ آپ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔مولانا نعمانی نے طلباء و طالبات سے کہا کہ وہ قُرآن کے مطالعہ کو اپنا معمول بنالیں۔اساتذہ کوچاہئے کہ وہ ایک رول ماڈل بن کر رہیں۔آج ہندوستان کو سائنٹیفک اور اسپریچیول دونوں طرز ِ تعلیم کی ضرورت ہے۔اس سے قبل شاہین ادارہ جات کے چیرمن ڈاکٹر عبدالقدیر نے شاہین اداروں کا تعارف کرایا اس دو روزہ کانفرنس کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا اہتمام اس لئے کیا گیا ہے کہ ماہرینِ تعلیم اساتذہ اور معطیوں کو تعلیم کے میدان میں اپنے تجربات‘اپنے خیالات‘ اپنی معلومات کا تبادلہ کرپائیں۔اس کانفرنس کا ایک اور مقصد درس و تدریس کے میدان میں جو نئے طریقہ کار رائج ہوئے ہیں‘تعلیمی پالیسی کے سلسلہ میں جو تبدیلیاں لائی گئی ہیں ان پر تبادلہ خیال ہو۔علاوہ ازیں اس میدان سے تعلق رکھنے والوں کو آپسی ملاقات کا بھی ایک موقع مل سکے۔اس کانفرنس کے پہلے افتتاحی سیشن میں جن دیگر ماہرین نے خطاب کیا ان میں ڈاکٹر حسن محمد۔کنسلٹنٹ وزارتِ تعلیم حکومتِ ملیشیا(عنوان۔ملیشیا کا تعلیمی ماڈل)‘ڈاکٹر وائل ال بٹارکھی۔ منسٹر کونسلر‘فلسطین سفارت خانہ (عنوان۔ فلسطینی تعلیمی ماڈل)‘ کلیم الحفیظ۔منیجنگ ڈائریکٹرشاہین اکاڈیمی دہلی (عنوان۔دہلی اسکولوں کا تعلیمی ماڈل)‘ڈاکٹرافتخار صاحب۔چیرمن میسکو (عنوان۔انٹی لیکچیول ڈیفیشینسی اینڈ مارل سنڈروم)‘مسز نرملا ا یادورائے اور جیا داس ایڈومیٹریکس سنگاپور (عنوان۔ایکسویں صدی میں درس و تدریس کی تکنیکیں) کانفرنس کا آغاز مولانا حافظ ذکی کی تلاوتِ قُرآن سے ہوا۔کانفرنس میں نہ صرف ملک کی مُختلف ریاستوں سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی ایک بڑی تعداد میں مندوبین نے شرکت کی۔اور رضاکاروں کا عملہ مُختلف انتظامی امور میں سرگرم ِ عمل رہا۔     

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here