بنگلور:30نومبر (سیدھی بات کے نیوز سرویس) دنیا کے مایہ ناز اور مشہور و معروف دینی ادارہ جو اپنی تحریک اور فکر کے پورے عالم میں جانا جاتا ہے، دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنو سے کون ناواقف ہیں: اور اس شجر ِ ثمردار سے وابستہ کئی عالمی شہرت یافتہ ہستیاں خود کو اس شجر سے وابستہ رکھ کر اس کی فکرو تحریک کو پورے عالم میں عام کرکے اس دنیا سے رخت سفر باندھا: اس میں سے ایک شخصیت حضرت مولا نا محب اللہ صاحب ندوی لاری کی ہے جو کہ کئی سالوں تک ندوۃ العلماء کے منصبِ اہتمام پر فائز رہے اور پھر اپنی صلاحیتوں اور قابلیتوں سے ابنائے ندوہ کو فائدہ پہنچاتے رہے: اسی مناسبت سے مرحوم حضرت مولانا کے نواسہ جناب حکیم پروفیسرجاوید احمدلاری مالیگاؤن، اوررمضان حبیب اللہ خان ندوی، سابق مدرس جمعیۃ لتحفیظ القرآن الکریم کی یہاں شہر بنگلور میں آمد ہوئی تھی کہ مولانا مرحوم کے شاگردان سے یا وابستگان سے قلمی تعاون لے سکیں: اس سلسلہ میں یہاں سیدھی بات کے دفتر میں ایک مختصر نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا رمضان حبیب اللہ خان ندوی صاحب نے تفصیلات رکھتے ہوئے کہا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ ہر شخصیت کی تاریخ کو رقم کرنا اور ان کے سوانح کو منظر عام پر لانا ابنائے ندوہ کی ذمہداری ہے بصورتِ دیگر اگلی آنے والی پیڑھی اس عظیم درسگاہ کے سپوتوں کو ایک ایک کرکے بھولتی چلی جائے گی اورفکرندوہ وتخیلات ندوہ کے حاسدین اس کا بھرپور فائدہ اُٹھائیں گے: اس اجلاس میں مولانا عبدالمعز ندوی، مولانا سمیر بیگ ندوی، مولانا یوسف بیگ ندوی، مولانا شہباز بیگ ندوی، مولانا عبدالحفیظ ندوی، مولانا انصارعزیزندوی او رمہمانان کرام مولانا رمضان حبیب اللہ خان ندوی اور پروفیسر جاوید احمد لاری موجود تھے: لہٰذا جو لوگ حضرت مولانا محب اللہ صاحب لاری ندوی علیہ الرحمہ کے دور اہتمام میں ندوہ سے ووابستہ رہے ہیں ضرور اپنے خیالات اور جذبات کا اظہا رکریں اور قلمی تعاون پیش کریں: مولانا کے نواسہ پروفیسر جاوید احمد لاری صاحب سے اس نمبر پر رابطہ یا واھسٹس اپ کرسکتے ہیں: 09270932213میٹنگ میں جہاں اس بات کو عام کرنے کے لئے سیدھی بات کے ذریعہ اعلان کرانے کا فیصلہ لیا گیا وہیں اس بات کا بھی فیصلہ لیاگیا ہیکہ کرناٹک، بنگلور، تمل ناڈو اور کیرلا کے تمام ندوی احباب کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑ کر فکرِ ندوہ او رتحریکِ ندوہ کو عام کرنے میں اب پوری طرح سنجیدگی سے کام لیا جائے: اسی وجہ سے اس خبر کے ساتھ یہ اعلان کیا جارہاہے،کہ بنگلور و اطراف بنگلور، یا تمل ناڈو ہو یا کیرلا میں جہاں کہیں بھی ندوی علماء و فضلاء موجود ہیں، چاہے وہ بیرون ریاست سے ہی یہاں مقیم کیوں نہ ہو وہ فوری طور پراس نمبر پر وھاٹس اپ کریں؛9663027449 عنقریب شہر بنگلور کو مرکز بنا کر ایک تینوں ریاستوں کے ندوی احباب کو جوڑنے کی فکر ہورہی ہے: سیدھی بات کے زیرِ اہتمام انشاء اللہ عنقریب ان تینوں ریاستوں کے ندوی احباب کو جوڑا جائے گا اور پھر اگلی کارروائیوں پر غور وخوص ہوگا: ہمیں اُمید ہے کہ ان تینوں ریاستوں میں مقیم ندوی احباب اس تحریک سے جڑ کر اپنے مادر علمی کو مضبو ط کرنے اور اس تحریک کو آگے بڑھانے میں ہمارا تعاون فرمائیں گے:

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here