بنگلور:30نومبر(سیدھی بات نیوز سرویس) کرناٹک کے پندراسمبلی حلقوں کے لئے انتخابات کی تاریخ جو ں جوں قریب تر ہوتی جارہی ہے، انتخابی بخار ویسے ہی تیز ہوتاجارہا ہے،ا ور کرناٹک کی عوام اس وجہ سے بھی اس کو دلچسپی کی نظر سے دیکھ رہی ہے،کیوں کہ کانگریس کے پندرہ اراکینِ اسمبلی بی جے پی کے جھانسے میں آکر اپنی ذاتی مفاد کے لئے عوام کو دھوکہ دے کر کانگریس اور جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت کو ڈھاچکے تھے،انہی اسمبلی حلقوں سے میں شواجی نگر حلقہ بھی ہے جہاں پر سہ رخی مقابلے کا خدشہ ہے: تبصرہ نگاروں کے مطابق یہاں بی جے پی، کانگریس او رایس ڈی پی آئی میں براہِ راست مقابلہ ہونے والا ہے: کانگریس اُمیدوار اگر کانگریس ووٹوں کو حاصل کربھی لیتاہے تو مانا یہ جارہاہے کہ مقامی کئی مسائل کے پیشِ نظر اور کانگرس کے دورِ حکومت میں شواجی نگر کی بنیادی مسائل کو حل نہ کرنے کی وجہ سے ممکن ہے عوام اس بار ایس ڈی پی آئی کو ایک بار موقع دے کر دیکھیں، اگر کانگریس کے شواجی نگر کے عوام یکسر منھ موڑ لیتے ہیں تو پھر یہ بازی ایس ڈی پی آئی کے عبدلحنان مار لے جائیں گے: زمین سطح پر بھی وہ فرداً فرداً عوام سے ملاقات کررہے ہیں اور پارٹیوں کی جانب سے ہوئی ناانصافی اور ہر ہمیشہ مظلوم قوم کے تئیں آواز اُٹھانے والی باتوں کو رکھ رہیں: تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح سے الگ الگ علاقوں میں یہ لوگ پہنچ کر عوام سے ملاقات کررہے ہیں: ایک سروے رپورٹ یہ بھی ہے کہ اس وقت دیگر پارٹیوں سے یہاں کی عوام اوب چکی ہے اور شاید ممکن ہے کہ ایس ڈی پی آئی کو یہاں کے لوگ اس بار موقع دیں: پھر بھی ہی سیاست ہے: کچھ کہا نہیں جاسکتا: دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے:

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here