21 نومبر (سیدھی بات نیوز سرویس) یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے لیے لڑنے والے عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بدھ کے روزان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی ملیشیا نے عرب اتحاد کا ایک ‘ایف 15’ جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔المالکی نے واضح کیا کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے جاری کردہ فوٹیج یکم جولائی 2018ء کو ایک طیارے کو مار گرانے کی ناکام کوشش کی ہے۔ حوثی باغی ایک پرانی فوٹیج کو دوبارہ پیش کرکے جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کررہے ہیں۔دوسری طرف اتحاد نے بدھ کے روز جنوبی کوریا کے بحری جہاز کی یمن میں باب المندب سے اغواء کے بعد جہاز کو بازیاب کرانے اور اسے اس کی مالک کمپنی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے۔کرنل المالکی نے بتایا کہ ہم آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں سمندری تحفظ برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔المالکی نے پیر کے روز بتایا کہ اتوار کی شام بحیرہ احمر کے جنوب میں ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا مسلح کارروائی کرکے دو کشتیوں کو قبضے میں لے لیا تھا۔انہوں نے جنوبی کوریا کے بحری جہاز کے حوثی ملیشیا کے ہاتھوں اغواء کو بحری قذاقی اور مسلح ڈکیتی قرار دیا اور کہا کہ حوثی ملیشیا کے اقدامات سے باب المندب اور بحیرہ احمر میں عالمی جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here