سب سے پہلے میرا عدلیہ کے سامنے پیش ہو کر اپنی معصومیت اور اخلاص کو ثابت کرنا ضروری ہے: وزیر اعظم جابر الصباح

19 نومبر (سیدھی بات نیوز سرویس) کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد جابر الصباح کی طرف سے دوبارہ حکومت بنانے کے لئے متعین کردہ وزیر اعظم جابر الصباح نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KUNA کے مطابق گذشتہ ہفتے مستعفی ہونے والے وزیر اعظم صباح نے امیر کویت کی طرف سے انہیں سونپی گئی حکومت بنانے کی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لئے شرط رکھی ہے کہ پہلے بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں ان کے خلاف کئے گئے دعووں کو صاف کیا جائے۔جابر الصباح نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ” سب سے پہلے میرا عدلیہ کے سامنے پیش ہو کر اپنی معصومیت اور اخلاص کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ آپ کا اعتماد اور کویت کے عوام کی تقدیر مجھے سونپی گئی اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے راستے میں مانع ہے۔ میرا اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کرنا اس احترام کی ایک ضرورت ہے جو آپ کے عظیم مرتبے کے لئے میرے دل میں موجود ہے”۔امیر کویت صباح نے آج جاری کردہ فیصلے سے اپنے بیٹے وزیر دفاع ناصر الصباح اور وزیر داخلہ خالد الصباح کو ان کے عہدوں سے معزول کر دیا ہے۔امیر کویت نے جاری کردہ دوسرے فیصلے سے مستعفی وزیر اعظم جابر الصباح کو دوبارہ سے حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپی۔امیر کویت صباح اور مستعفی وزیر اعظم جابر الصباح نے آج ملاقات کی جس میں امیر کویت نے کہا ہے کہ ” یہ ذمہ داری قبول نہ کر کے آپ نے ہمیں آزردہ کیا ہے۔ آپ مذکورہ عہدے سے زیادہ قابل قدر ہیں”۔واضح رہے کہ وزیر اعظم جابر الصباح 14 نومبر بروز جمعرات کو مستعفی ہو گئے تھے۔اس پر امیر کویت کے بیٹے اور وزیر دفاع ناصر الصباح نے ٹویٹر سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ “حکومت، فوج کے فنڈ میں بھاری مصارف کی وجہ سے مستعفی ہوئی ہے”۔وزیر دفاع نے کہا تھا کی مذکورہ مصارف کی مالیت 240 ملین دینار ہے۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here