دیویندر فڑنویس کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہم بی جے پی جیسے نہیں ہیں، جو وعدہ کرتے ہیں، اس کو نبھاتے ہیں۔

08 نومبر (سیدھی بات نیوز سرویس) مہاراشٹر کی سیاست میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان تلخی اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ دیویندر فڑنویس کے الزامات پر جواب دیتے ہوئے شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہم بی جے پی جیسے نہیں ہیں، جو وعدہ کرتے ہیں، اس کو نبھاتے ہیں۔ بی جے پی نے صرف پانچ سال سیاست کی۔ میں نے امت شاہ سے وزیر اعلی کے عہدہ کو لے کر واضح بات کی تھی۔ ہم نائب وزیر اعلی کیلئے تیار نہیں تھے۔جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیو سینا سربراہ نے کہا کہ ہم کبھی اپنے وعدہ سے پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔ بی جے پی نے ترقی کی جگہ صرف سیاست کی۔ انہوں نے بال ٹھاکرے کے بچوں کو جھوٹا کہا۔ اودھو ٹھاکرے نے کہا کہ الیکشن سے پہلے بی جے پی نے میٹھی میٹھی باتیں کیں۔ اب ہم بی جے پی کے جھانسہ میں نہیں آئیں گے، ہم برابری چاہتے تھے، میں اب بھی انہیں دشمن نہیں مانتا، ہمیں وزیر اعلی بنانے کیلئے فڑنویس کی ضرورت نہیں ہے۔اودھو ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے دیویندر فڑنویس سے ایسے الزامات کی امید نہیں تھی۔ ہم نے دیویندر فڑنویس کی وجہ سے ہی اتحاد جاری رکھا تھا۔ انہوں نے پانچ سالوں کے کاموں کا سہرا اپنے سر ہی باندھ لیا، ہم حکومت میں برابری چاہتے تھے، نائب وزیر اعلی عہدہ ہمیں منظور نہیں تھا۔خیال رہے کہ اس سے پہلے جمعہ کو دیویندر فڑنویس نے راج بھون میں گورنر سے ملاقات کرکے وزیر اعلی کے عہدہ سے اپنا استعفی دیدیا۔ استعفی کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے فڑنویس نے کہا کہ عوام نے لوک سبھا میں ہمیں بڑی کامیابی دی۔ اسمبلی انتخابات میں اتحاد کے طور پر ہم لوگوں کے درمیان گئے، ہمارے اتحاد کو واضح اکثریت ملی اور بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔انہوں نے کہا کہ کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیلئے میں نے اودھو ٹھاکرے کو فون کیا تھا، لیکن انہوں نے میرا فون نہیں اٹھایا۔ بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان کبھی بھی وزیر اعلی کے عہدہ کو لے کر 50-50 کے فارمولہ پر فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ میں نے پارٹی صدر امت شاہ اور سینئر لیڈر نتن گڈکری سے بھی اس سلسلہ میں بات کی، لیکن انہوں نے بھی وزیر اعلی کے عہدہ پر 50-50 فارمولہ پر کسی بھی طرح کے فیصلہ سے انکار کیا۔

نیوز18

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here