فڑنویس کے استعفیٰ کے بعد مہاراشٹر کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ایک طرف ادھو ٹھاکرے اپنے سبھی اراکین اسمبلی سے میٹنگ کرنے والے ہیں اور دوسری طرف سنجے راؤت این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملیں گے۔

08 نومبر (سیدھی بات نیوز سرویس) شیوسینا کی ضد نے اپنا اثر دکھا دیا ہے اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا پڑ گیا ہے۔ انھوں نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کر کے انھیں اپنا استعفیٰ نامہ سونپ دیا۔ استعفیٰ سونپنے کے بعد فڑنویس نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انھوں نے کہا کہ وہ اتحاد کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ان کے لیے سبھی راستے کھلے ہیں۔دیویندر فڑنویس نے پریس کانفرنس کے دوران ادھو ٹھاکرے پر کئی طرح کے الزامات عائد کیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کا نتیجہ برآمد ہونے کے بعد ادھو جی نے ان سے فون پر بات نہیں کی بلکہ این سی پی-کانگریس سے بات چیت کرنا انھوں نے زیادہ مناسب سمجھا۔ پریس کانفرنس میں فڑنویس نے گزشتہ پانچ سالوں میں کیے گئے اپنے کاموں کی تفصیلات بھی پیش کیں اور کہا کہ انھوں نے ریاست کی ترقی اور فروغ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے۔فڑنویس نے شیوسینا کے ذریعہ ڈھائی ڈھائی سال کا وزیر اعلیٰ بنائے جانے سے متعلق معاہدہ کیے جانے کی باتوں کو پریس کانفرنس میں پوری طرح مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی معاہدہ شیوسینا کے ساتھ نہیں ہوا تھا اور انھیں افسوس ہے کہ شیوسینا نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے باوجود حکومت سازی میں اس کا ساتھ نہیں دیا۔ فڑنویس نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے ادھو ٹھاکرے کو کئی مرتبہ فون کیا لیکن انھوں نے بات نہیں کی۔ شیو سینا کے ذریعہ ڈھائی سال کے وزیر اعلیٰ عہدہ کے مطالبہ کے تعلق سے فڑنویس نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ امت شاہ و نتن گڈکری نے بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ کبھی بھی وزیر اعلیٰ عہدہ کی ڈھائی ڈھائی سال کے لیے تقسیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا تھا۔دیویندر فڑنویس کے استعفیٰ کے بعد مہاراشٹر کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ سبھی پارٹیوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے اور میڈیا ذرائع کے مطابق ایک طرف ادھو ٹھاکرے اپنے سبھی اراکین اسمبلی سے شام میں ملاقات کریں گے، جب کہ دوسری طرف بہت جلد شیوسینا لیڈر سنجے راؤت این سی پی سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کریں گے۔ ایسا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ این سی پی اور شیو سینا دونوں ایک ساتھ مل کر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن فڑنویس کے استعفیٰ سے تھوڑی ہی دیر پہلے شرد پوار نے واضح لفظوں میں میڈیا کے سامنے بیان دیا تھا کہ بی جے پی اور شیو سینا کو ایک ساتھ آ کر جلد سے جلد حکومت سازی کرنی چاہیے۔واضح رہے کہ فڑنویس کے استعفیٰ سے قبل نتن گڈکری نے بھی ڈھائی ڈھائی سال کے وزیر اعلیٰ سے والے معاہدہ پر اپنا رد عمل ظاہر کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی ڈھائی سال کے لیے شیوسینا کو دینے کا کبھی بھی وعدہ نہیں کیا گیا۔ گڈکری کا یہ بیان شیو سینا کے لیے ایک جھٹکا تصور کیا جا رہا تھا اور یہ صاف ہو گیا تھا کہ بی جے پی کسی بھی حال میں شیو سینا کو ڈھائی سال کے لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ نہیں دے گی۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here