04 نومبر (سیدھی بات نیوز سرویس) سعودی حکومت نے دنيا کی سب سے بڑی کمپنی ارامکو کی اسٹاک ايکسچينچ پر لسٹنگ اور اس کے شيئرز کی خريد و فروخت کی منظوری دے دی۔ يہ اقدام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ سعودی فنانشل ريگوليٹر نے ارامکو کی رياض اسٹاک ايکسچينچ پر لسٹنگ کی منظوری دی۔ کيپيٹل مارکيٹ اٹھارتی نے اتوار کو ايک بيان ميں ‘آئی پی او‘ کے ليے درخواست منظور کرنے کی تصديق کی ہے۔پچھلے سال ارامکو کا منافع 111.1 بلين ڈالر رہا، جو ايپل، گُوگِل اور ايگزون موبِل جيسی بڑی کمپنيوں سے کہيں زيادہ ہے۔ يہ کمپنی وزارت توانائی کے اختيار ميں آتی ہے، جو شاہ سلمان کے بيٹے عبدالعزيز بن سلمان بن عبدالعزيز السعود کے ہاتھ میں ہے۔ سعودی حکومت کو توقع ہے کہ ارامکو کے شيئرز کی اسٹاک مارکيٹ ميں فروخت سے نہ صرف ملک کو درپيش بے روزگاری سے نمٹنے میں مدد ملے گی اور تيل کی تجارت پر انحصار کم ہوگا۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی يہ عنديہ دے چکے ہيں کہ وہ تيل کی تجارت پر بہت زيادہ انحصار کا خاتمہ چاہتے ہيں اور ارامکو کی حوالے سے يہ اقدام اسی کی ايک کڑی ہے۔ ابھی يہ واضح نہيں کہ بازار حصص ميں خريد و فروخت کے ليے شيئرز کب تک پيش کيے جائيں گے۔ ابتداء ميں رياض کے تداول اسٹاک ايکسچينج پر ارامکو کے کچھ ہی شيئرز دستياب ہوں گے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خواہش ہے کہ کمپنی کی ماليت قريب دو ٹريلين ڈالر تک طے ہو لیکن ذرائع ابلاغ میں اندازوں کے مطابق يہ ماليت 1.6 سے 1.7 ٹريلين ڈالر کے درميان ہو سکتی ہے۔ سعودی ميڈيا کے مطابق شيئرز کی قيمتوں کے تعين کا عمل سترہ نومبر تک شروع ہو گا جبکہ دسمبر کے اوائل ميں و شيئرز کی حتمی قيمت سامنے آنے کا امکان ہے۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here