چالیس دن تک باجماعت فجر کی نماز ادا کرنے والے بچوں میں تقسیم کی گئی سائیکل:اور دیگر انعامات

بنگلور/کولار: (سیدھی بات نیوز سرویس) ہم جس دور سے گذ ر رہے ہیں وہ ایسا تعلیم یافتہ یا ترقی پذیر دور کہلاتاہے جہاں انسان اپنے رب کو بھول بیٹھا ہے اور زندگی کا مقصد صرف کمانا، کھانا پینا اورایک بہترین مستقبل اور اچھی زندگی بتانا بنالیا ہے، ایسے ماحول میں ظاہر سی بات ہے کہ انسان اپنے رب کو یا د نہیں کرتا اور کرتا بھی ہے تو صرف نام کے لئے: اسلام میں پنج وقتہ نماز کی جو اہمیت ہے اوراس کے ادا کرنے پر جو انعامات زندگی اور بعد زندگی ہیں وہ بھی ہم سب کو عیاں ہیں اورنہ ادا کرنے کی صورت میں جو وعیدیں آئی ہیں حیاۃ او ربعد المماۃ اس سے بھی ہم ناواقف نہیں: مگر اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ وہ مسجد سے دو رہوتاہے اور نمازوں سے بھی کچھ لوگ ادا کرتے ہیں تو وہ دن میں عصر مغرب یا عشاء میں کبھی نظر آتے ہیں، مگر فجر کی نماز میں ہمارے مسجدیں اکثر نمازیوں سے خالی نظر آتی ہیں، جب بالغوں او ربڑوں کا یہ حال ہو تو ظاہر سی ہے بات بچے بھی انہی کے نقشِ قدر پر چلیں گے، یہی وجہ ہے کہ نماز کی تربیت بچپن سے ہو تو اس کا اثر بڑھے ہونے کے بعد بھی رہتا ہے، اسی کی پہل کرتے ہوئے ہندو بیرون ہند کے کئی ممالک میں بچوں کو نماز کے قریب کرنے، مسجد کے قریب کرنے الگ الگ انعامات کا اعلان کرنے کی پہل ہوتی رہی اور بچے انعام کے حصول کے لئے مسجد کے قریب ہوتے رہے، اب اس طرح کا انوکھی پہلی ریاستِ کرناٹک کے بھی کئی شہروں اوعلاقوں میں کیا گیا، جس پر بچے بڑھ چڑھ کر نہ صرف حصہ لے رہے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں بچے باجماعت فجر کی نماز ادا کررہے ہیں: ایسے ہی ایک پہل شہر بنگلور کے مشہور و معروف مسجد اسماعیل سیٹھ ٹرسٹ مسجد میں 16ستمبر سے کی گئی تھی، کئی طلباء نے حصہ لیا، فارم میں نام درج کرایا، اور پھر نو یں فیصد طلباء نے چالیس دن مکمل باجماعت نماز ادا کی، انہی کے درمیان وعدے کے مطابق سائیکلوں کی تقسیم کے لئے آج ایک مختصر نشست مسجدِ مذکورہ کے دالان میں سجائی گئی، بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھنے کے لائق تھی، ظاہر سی بات ہے کہ چالیس دن باجماعت نماز ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ جب راضی ہوجائے تو انعام کا ملنا لازمی ہے: اس نشست میں مسجد کے ٹرسٹیان میں سے جناب زکریا ہاشم، جناب سہیل احمد سیٹھ، ابراہیم سیٹھ، مولانا اکبر شریف ندوی، مولانا مقصود عمران رشادی، مولانا مفتی عقیل الرحمٰن نئی دہلی، عاصم افروز سیٹھ وغیرہ موجود تھے، اور انہی کے ہاتھوں سائیکل کے چابیاں او ردیگر انعامات تقسیم کی گئے، اس پورے اجلاس کے ساتھ ہی اس طرح کی اول دن سے بچوں کو ترغیب دینے او رپھر ان کے اندر چاشنی پیدا کرنے میں مسجد ہٰذا کے امام مولانا قاری محمد عبداللہ قاسمی کا بھرپور رول رہاہے، جس کی سراہنا ہونی چاہئے اس کے علاوہ اس انوکھی پہل میں دامے درہمے حصہ لینے والوں کی بھی تعریف ہونی چاہئے، اطلاع ملی ہے کہ اس منظر دیکھ کر اگلے مرحلے کے لئے قریب دوسو طلباء نے آج ہی فارم لے کر اندراج کرالیا ہے: اورا سکا اثر بچوں پر زیادہ ہورہاہے: جب کہ اگلے مرحلے طلباء کو کس طرح کے انعامات دئے جائیں گے اس کا اعلان نہیں ہوا ہے لین طلباء اس سے پہلے ہی فارم لے کر اپنا نام اندراج کرچکے ہیں: آج انعامات قریب ایک سو طلباء کو دیا گیاہے، اسی بیچ کولار سے بھی یہ خبر آئی ہے کہ آج ہی کے دن مسجد مدینہ، شہنشاہ نگر کولار میں بھی چالیس دن باجماعت نماز ادا کرنے سے بچوں کو سائیکل اور دیگر انعامات سے نوازا گیا: بنگلور کے دیگر اور بھی مساجد میں اس انوکھی پہل کا آغاز ہوچکاہے ا، اور بچے باجماعت نماز ادا کررہے ہیں: ادارہ سیدھی بات کے ایسے تمام مساجد کے ذمہد اران او رمسجد کے اماموں کی خدمت میں مبارکبادی پیش کرتا ہے اور مکمل طو ر پر اس اقدام کی سراہنا کرتاہے بلکہ یہ پہل ملکِ ہند کے ہر مسجد میں کی جائے اسکی اپیل بھی کرتاہے اور درخواست بھی: اللہ تمام اہلِ خیر حضرات کے اخلاص کو قبول فرمائے:

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here