30اکتوبر (سیدھی بات نیوز سرویس) ریاض: وزیر اعظم مودی کے دو روزہ سعودی دورے کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی تمام شکلوں کی مسترد کرنے کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے ہیں۔ دفعہ 370 کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کئے جانے کے بعد سے پاکستان کی طرف سے اس معاملے کو اچھالنے کی مسلسل کوششوں کے پس منظر میں مذکورہ مشترکہ بیان اہمیت کا حامل ہے۔ہندوستان بار بار اپنے اس موقف کا اعادہ کرتا رہا ہے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ حصہ ہے اور دفعہ 370کو ختم کرنا اس کا داخلی معاملہ ہے کیوں کہ آئین میں یہ ایک عارضی التزام تھا اور ہندوستان نے اپنے اختیارات کے تحت ہی مذکورہ قدم اٹھایا ہیہندوستان یہ بھی واضح کرچکا ہے کہ دفعہ 370کو ختم کرنے کا لائن آف کنٹرول سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ کی بنیاد پر تمام معاملات پر کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے بغیر باہمی طورپر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہاں ذرائع نے بتایا کہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی شاہ سلمان بن عبداللہ کے ساتھ مودی کی میٹنگ میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”ملکوں کی خو دمختاری پر کسی بھی طرح کے حملوں کو روکنے کے سلسلے میں عالمی برداری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی ضرورت ہے۔“ وزیر اعظم مودی کے دورے کے دوران بھی یہ بات واضح طورپر دکھائی دی کہ سعودی عرب کے ساتھ ہندوستان کے رشتوں میں پچھلے چند برسوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے زیادہ قریب آئے ہیں۔اس دورے کے دوران سعودی شاہ سلمان بن عبداللہ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دونوں نے ہی وزیر اعظم مودی کے لئے الگ الگ ضیافت کا اہتمام کیا۔2016 میں سعودی عرب نے وزیر اعظم مودی کو اپنے ملک کا اعلی ترین سویلین ایوارڈ دیا تھا۔مشترکہ بیان میں دونوں ملکوں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی سے تمام ملکوں اور سماج کو لاحق خطرات پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ انہوں نے کسی نسل‘ مذہب یا کلچر کے خلاف اسے استعمال کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کیا۔ دونوں فریق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی دیگر ملک کے لئے دہشت گردانہ حرکت کو انجام دینے کے خاطر میزائل اور ڈرون سمیت کسی بھی طرح کے ہتھیاروں تک رسائی کو روکنے کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ وزیر اعظم مودی یہاں فیوچر انوسٹمنٹ انیشی ایٹیو کے تیسرے سالانہ فورم میں شرکت کے لئے آئے تھے۔وہ دو روزہ دورے کے بعد کل دیررات دہلی واپس لوٹ گئے۔ فورم کاتین روزہ اجلاس کل 31اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here