19ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) ہندوستان اورپاکستان کید رمیان رشتے لگاتار خراب ہوتے جا رہے ہیں اور تازہ خبروں کے مطابق پی ایم مودی کو اپنا ائیر اسپیس دینے سے بھی پاکستان نے انکار کر دیا ہے۔ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد تلملائے پاکستان نے اس ایشو کو پوری دنیا میں اٹھایا، لیکن اسے ہر جگہ سے مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ اس کے بعد پاکستان نے ہندوستان کے لیے اپنا ائیر اسپیس بند کر رکھا ہے اور تجارتی تعلقات بھی منقطع ہیں۔ پی ایم مودی ستمبر میں ہی امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں اور اسی سلسلے میں ہندوستان نے پاکستان سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنا ائیر اسپیس استعمال کرنے کی اجازت دے۔ لیکن عمران خان کی حکومت نے واضح لفظوں میں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل پاکستان نے ہندوستانی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کے طیارہ کو بھی اپنے آسمان سے گزرنے کی اجازت نہیں دی تھی، اس لیے یہ امید کی جا رہی تھی کہ پی ایم مودی کے جہاز کو بھی وہ ائیر اسپیس دینے سے انکار کرے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ پاکستان کے اس فیصلے پر ہندوستان نے ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی حرکتوں سے اسے باز آنا چاہیے ورنہ دونوں ملکوں کے رشتے خراب ہوتے چلے جائیں گے۔میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پی ایم مودی کے طیارے کو پاکستانی ائیر اسپیس سے گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور اس فیصلے سے ہندوستان کو مطلع کرا دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان حکومت کی جانب سے ہندوستانی ہائی کمیشن کو بھی اس کی جانکاری دے دی گئی ہے۔واضح رہے کہ ہندوستانی پی ایم نریندر مودی 22 ستمبر کو امریکہ میں ’ہاؤڈی مودی‘ تقریب میں حصہ لینے والے ہیں اور اس کے لیے وہ ہفتہ کے روز امریکہ روانہ ہوں گے۔ اس دورہ کے مدنظر حکومت ہند نے پاکستان سے رسمی گزارش کی تھی کہ وہ پی ایم مودی کے طیارہ کو اپنے ائیر اسپیس سے گزرنے دے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق عمران حکومت نے صلاح و مشورہ کے بعد پی ایم مودی کے طیارہ کو اپنے ائیر اسپیس سے اڑنے کی اجازت نہیں دی ہے۔قابل غور ہے کہ بالاکوٹ ائیر اسٹرائیک کے بعد پاکستان کا ائیر اسپیس بند ہونے کی وجہ سے ائیر انڈیا کو 2 جولائی تک 491 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔ سول ایویشن کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا ائیر اسپیس بند ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ائیر لائنس اسپائس جیٹ کو 30.73 کروڑ، انڈیگو کو 25.1 کروڑ اور گو ائیر کو 2.1 کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

(قومی آواز)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here