19ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس)  امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہیکہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملوں نیعالمی منڈی میں ہل چل پیدا کردی جس نے ثابت کیا ہیکہ توانائی کی عالمی منڈی میں سعودی عرب کا گہرا اثرو رسوخ ہے۔ اگر سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات میں خلل پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا بھرمرتب ہوتے ہیں۔ یہ رپورٹ جو امریٹ راما کمار اور ایرا یوشباویلی نے تیار کی ہے۔ رپورٹ گذشتہ روز سعودی عرب کے اس اعلان سے قبل سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے مملکت تیل کی رسد اور سپلائی کی سطح کو برقرار رکھنے کے قابل ہے۔ دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل کی پیداوار پر منفی اثرات سے مملکت کے عالمی گاہکوں کو تیل کی سپلائی متاثر نہیں ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا کے شیل آئل کی مارکیٹ میں آمد کے باوجود تیل کی قیمتوں میں اضافہ فطری ہے۔ تیل کے شعبے کے سرمایہ کاروں کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ خام تیل کی قیمتیں دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پرحملوں کا نتیجہ ہیں۔ “وال اسٹریٹ جرنل” کے مطابق سرمایہ کاروں کا کہنا ہیکہ عالمی توانائی کی منڈی میں سعودی برآمدات کی اہمیت اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کے امکانات سے قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتا رہے گا۔ عالمی تیل مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی کی قیمت میں 15 فیصد اضافے کے بعد اس کی قیمت 69.02 ڈالر فی بیرل ہوگئی جوکہ 1988ء کے بعد سے ایک روزہ کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ منگل کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 67 اعشاریہ 98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
سعودی عرب کی اہمیت کیوں؟  سعودی عرب تیل کے محفوظ ذخائر والا واحد ملک ہے جس کے ذخائر کو ہنگامی صورتحال میں جلدی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے چین، جاپان اور کوریا جیسے بڑے ایشیائی خریداروں کی تیل کی رسد پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تیل کی خریداری کے حوالے سے ان ملکوں کے اپنے اپنے درجے ہیں۔ اپنی الگ کثافت اور دیگر خصوصیات کی وجہ سے عالمی منڈی میں ایک الگ مقام اور پہچان رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جگہ لینا مشکل ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جن کے پاس خام تیل تک رسائی کے لیے بہت سارے اور اختیارات نہیں ہیں۔ سپلائی میں کمی کا خطرہ اس وقت پیدا ہوا ہے جب کمزور طلب کے خدشات نے ایندھن کے اخراجات کو عالمی صارفین کے کندھوں پر ڈال دیا ہے، اس سے عالمی معیشت پر کچھ دباؤ کم ہوا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور چین تجارتی جنگ کے اثرات کو محسوس کیا گیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں صارفین کو پٹرول اور ایندھن کی دیگر اقسام کی قیمتوں میں اضافے کا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ اضافہ صارفین کی آمدنی متاثر کرے گا۔ اگرچہ دوسرے ممالک میں پیداوار کی نمایاں صلاحیت موجود ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب سعودی برآمدات میں خلل پڑتا ہے تو سپلائی مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کو کم نہیں کرسکتی۔
اوپیک کے ساتھ رابطے  سعودی عرب اور اوپیک کے دیگر عہدیداروں نے پیر کے روز بتایا کہ سعودی عرب نے ہفتے کے آخر میں پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے ممبروں اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ کئی ایک رابطے کیے ہیں۔ تیل پیدا کرنیوالے کو بتایا گیا کہ انہیں اضافی سپلائی کی ضرورت نہیں۔ شان رینالڈس قدرتی وسائل کی حکمت عملیوں کے پورٹ فولیو مینیجر ‘وان اک’ نے کہا کہ “آپ کو امریکا میں شیل آئل پروڈیوسروں کو دیکھنا ہوگا اور تیل کی فراہمی میں خلل ڈالنے کے سب سے کم خطرہ رکھنے والے محفوظ ترین ذخائر پر توجہ دینا ہوگی”۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here