افغانستان کے صوبے زابل میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر کے قریب کار بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے۔

19ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) افغان حکام کے مطابق افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر کے قریب دھماکا جمعرات کی صبح کیا گیا جس سے قریبی موجود اسپتال، دفاتر اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ حکام کے مطابق دھماکے میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کا کوئی بھی ملازم متاثر نہیں ہوا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو قندھار کے اسپتالوں میں بھی منتقل کیا جا رہا ہے، طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ ادھر بدھ کے روز صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں واقع افغاستان کے قومی الیکٹرونک شناختی کارڈ کی تقسیم کے مرکز پر کئی سمتوں سے حملہ کیا گیا۔ گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی کے مطابق، بدھ کی شام دفتر کے صدر دروازے پر دھماکا ہوا جس دوران متعدد حملہ آور احاطے کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔ منگل کے روز دو حملے ہوئے جن میں سے ایک پروان میں صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے دوران ہوا، جب کہ دوسرا حملہ کابل میں وزارت دفاع کے دفتر پر ہوا جس میں کم از کم 48 افراد ہلاک ہوئے۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی ہے۔ طالبان نے متنبہ کیا ہے کہ خصوصی طور پر انتخابات سے متعلق سرگرمیوں پر مزید حملے کیے جائیں گے۔ اس سے قبل اسی ماہ جب طالبان نے حملہ کیا جس میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر امریکی وفد اور طالبان کے درمیان مذاکرات منسوخ کردیے، جن کے نتیجے میں ملک کے کچھ علاقوں میں تشدد کی کارروائیوں میں کمی واقع ہو جاتی۔ تب سے لڑائی میں تیزی آ چکی ہے۔ اتوار کے روز کابل اور 10 دیگر شہروں میں بجلی کی ترسیل کے زیریں ڈھانچے پر حملہ کیا گیا جس کے اثرات اب تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here