19ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس)  عرب یوروپیین فورم برائے انسانی حقوق نے سوئس دارالحکومت جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے 23،000 یمنی بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کیا۔ یہ رپورٹ انسانی حقوق کونسل کے 42 ویں سالانہ اجلاس کے موقعے پر پیش کی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے عالمی تنظیم کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں یمن میں بچوں کے بنیادی حقوق کے منظم استحصال کو روکنے اور ان کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں مباحثے کے لیے پیش کی گئی رپورٹ میں انسانی حقوق کونسل سے کہا گیا ہے کہ یمن میں حوثی ملیشیا کی وجہ سے لاکھوں بچے جن گھمبیر حالات کا سامنا کررہیہیں ان پر سلامتی کونسل میں فوری بحث کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ عالمی باردری کو بچوں کے حقوق کے لیے جنیوا کنونشن اور پروٹوکول کے تحت یمنی بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ انہیں کوئی عسکریت پسند گروپ جنگ کا ایندھن نہ بنا سکے۔ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس کے مطابق بھی حوثی ملیشیا نے 23،000 یمنی بچوں کو بھرتی کیا ہے۔ بچوں کا جنگ کے لیے بھرتی کیا جانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت جنگی جرم ہے جس میں بچوں کی بھرتی پر پابندی ہے۔ اس تنظیم نے بین الاقوامی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں خانہ جنگی کے شکار بچوں کومکمل تحفظ فراہم کرے۔ان کے تعلیمی اداروں کی بحالی کی کوشش کریں۔ نیز حوثیوں کو یمن کے بچوں کے خلاف ہونے والے جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔  اس تنظیم کے ڈائریکٹر اور میمورنڈم کے مصنف ایمن نصری نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ یمن میں 15 سال سے کم عمربچوں کو بھی حوثی ملیشیا جنگ کے لیے بھرتی کرتی ہے۔ ملیشیا ان کے اہل خانہ کو ماہانہ تنخواہوں کے عوض امداد، ادویات اور دیگر مراعات کا وعدہ کرتے ہیں۔ جنگ کے دوران بڑی تعداد میں بچے مارے جاتے یا زخمی ہوتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری حوثی ملیشیا پرعاید ہوتی ہے۔  نصری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے والدین کی اپنے بچوں کی بھرتی کے لیے رضامندی کی وجہ مشکل حالات ہیں۔ حکومت کی طرف سے تنخواہوں میں کٹوتی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں والدین اپنے بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کرانے پرمجبور ہوجاتیہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی سب سے زیادہ بھرتی صنعا، مارب، الجوف، تعز اور عمران شہروں میں کی گئی ہیں۔

(العربیہ)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here