بنگلور:14ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس)کل جمعہ کو شہر بنگلور کے دورہ کے دوران حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہم نے ایک مختصر نشست میں شرکت کے لئے یہاں شہر بنگلور کے مشہورومعروف تعلیمی ادارے جو کہ بہت ہی کم مدت میں مشہورا اقراء انٹرنیشنل اسکول کے کیمپس میں تشریف لائے جہاں مولانا کا پرجوش انداز میں استقبال کیا گیا اور پھر طلبہ و اساتذہ سے مختصرا! خطاب بھی ہوا مولانا موصوف نے اس موقوع پر اقراء کی تشریح کرتے ہوئے اساتذہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اقراء کے ساتھ انٹرنیشنل جوڑ کر آپ نے علم کے آفاقی ہونے کی بات کہی اور پھر مولانا نے سیرت کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح دار ارقم میں پہلا اسکول بنا پھر مدینہ منورہ میں ایک مسجد کا صحن جس کی بنیاد بھی پکی نہیں تھی جس کے چھت پر کھجور کے پتے تھے او رپھر بیٹھنے کے لئے پھٹی چٹائیاں تک میسر نہیں تھی مگراس کے باوجود اسی یونیورسٹی سے ایسی شخصیتیں نکلی کہ بہت ہی کم مدت میں یہ صحابہ پوری دنیا میں پھیل گئے تھے، مگر ان کو تعلیم جو دی جارہی تھی وہ آفاقی تھی،اس میں ہر شعبہ تھا، تعلیم کے ساتھ تربیت اورپھر اللہ کے بندوں کو اللہ سے ملانے کا مقصد لے کر تعلیم کا حصول بھی ہونا چاہئے اور پھر تدریس بھی، مولانا موصوف نے اپنے مختصر بیان میں اساتذہ اور ذمہدارن اساتذہ و انتظایہ اور طلبہ کو بہترین انداز میں خلاصہ کرکے بتایا کہ اقراء کے آخر مفہوم کیا ہے: اس پورے بیان کو ہمارے چینل میں اپلوڈ کردیا گیاہے: وہاں جاکر سن سکتے ہیں: اس اسکول کے روح رواں جناب نذیر صاحب نے مولانا کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے اعزاز سے نوازا اور ساتھی سیدھی بات کے ایڈیٹر کی بھی عزت افزائی کی گئی: شکریہ کے کلمات پر جلسہ کا اختتام ہوا: مولانا فخر الحسن ندوی نے مولانا موصوف کا تعارف پیش کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here