بنگلور:14ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس)منہاج کا مطلب نہج اور میتھڈ کے آتے ہیں، اس لفظ کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیاہے، اس سے یہ پیغام ملتاہے کہ مدارس صرف پوری دنیا کے علوم کو پڑانے کے مراکز ہیں نہ صرف قرآن و حدیث قرات و دیگر شعبہ جات کے ساتھ اس کو محدود کیا جائے، قرآن و حدیث میں دنیا کے سارے علوم سمیٹ دئے گئے ہیں، اور قرآن ہمیں یہی پیغام دیتاہے کہ دنیا کے ہر علم میں مہارت حاصل کرکے پوری دنیا تک اللہ کا پیغام عام کیا جائے اور اس کی تبلیغ کی جائے: مدارس صرف مولوی، علماء،قراء کو بنانے جگہ نہیں بلکہ آفاقی علوم کو دلوں میں بھرنے کی جگہ ہے، آج ہم نے اس کو محدود کردیا تو وہ قومیں جن کے پاس نہ تہذیب ہے، نہ زبان ہے، جو ظالم اور قاہر ہے وہ قومیں ہم پر راج کررہی ہیں: مگر وہ دن بھی دور نہیں کہ ایک دن پورے عالم میں مسلمانوں کا غلبہ ہوگا اور ہوکر رہے گا: ان باتوں کا اظہار بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہم نے کی ہے، وہ یہاں د و دن قبل شہر کے بن شکری میں واقع منہاج العلوم مدرسہ کے احاطے میں طلباء اور عوام و اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تاریخ کو پیش کررہے تھے اور پھر مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ کو رکھتے ہوئے مدارس کے اہمیت اور تعلیم و تعلم کے رازوں کو سامنے رکھ رہے تھے، اوران غلطیوں کو بھی بتارہے تھے کہ ہم نے تعلیم کو محدود کرنے کی وجہ سے کس طرح نہ صرف اخلاقی پستی بلکہ ہر شعبہ میں ناکام ہوتے رہے، مولانا نے اپنے احساسات و جذبات کے اظہار کے دوران بار بار عوام کو یہ احساس دلا رہے تھے کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کو کس طرح ہونا چاہئے، اس کی سوچ کی بلندی کیا ہونی چاہئیے وغیرہ وغیرہ: (یہ پورا بیان ہمارے یوٹیوب چینل میں اپلوڈ ہے دیکھا جاسکتاہے)ملحوظ رہے کہ طلباء نے پرجوش انداز میں مولانا موصوف کا استقبال کیا، تلاوتِ قرآن پاک اور مختصر طلبہ کے ثقافتی پروگرام کے بعد اس مدرسہ کے روحِ رواں مولانا شمیم سالک مظاہری نے مولاناکا استقبال کیا اور تمام مہمانوں کا بھی استقبال کیا گیا: دعائیہ کلمات پر یہ جلاسہ اختتام کو پہنچا۔اس اجلاس کو آرگنائز کرنے میں ساتھ دینے والے مولانا مطہر سراجی اور دیگر علماء کرام اور ٹرسٹ کے صدر و سکریٹی کا بھی خصوصی طورپر شکریہ ادا کیا گیا۔

   

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here