امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنا ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی ہے۔

10ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات منسوخ کرنا ان کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی سے مشاورت نہیں کی ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے نائب صدر مائیک پینس اور دیگر معاونین کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہوئے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان کے ساتھ امن بات چیت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو کیمپ ڈیوڈ آنے کی دعوت دینا مکمل طور پر اُن کا اپنا فیصلہ تھا اور اسے منسوخ کرنا بھی انہی کا فیصلہ ہے۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اتوار کو طالبان اور افغان صدر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں الگ الگ ملاقات کرنا تھی جسے انہوں نے منسوخ کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امن بات چیت کے دوران طالبان نے حملے جاری رکھے اور گزشتہ جمعرات کو ہونے والے حملے میں ایک امریکی فوجی بھی ہلاک ہوا تھا لہذا بات چیت اور حملے ایک ساتھ جاری نہیں رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات “مردہ” ہو چکے ہیں۔یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ لگ بھگ ایک سال سے جاری تھا اور امریکہ کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here