کشمیر 72 برسوں سے بھارت کے قبضے میں ہے اور کئی ہفتوں سے یہاں کے عوام کا دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہے

10ستمبر (سیدھی بات نیوز سرویس)مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اورحقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف سوئس شہر جنیوا میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر کے سامنے شہریوں کیخلاف مسلح تشدد کے خلاف جدوجہد کی علامت ٹوٹی کرسی کے مجسمے کے نصب ہونے والے چوک میں مظاہرے میں بین الاقوامی حقوق انسانی کے علمبرداروں نے بھی شرکت کی۔اس جلسے کا اختتام کرنے والے کشمیر انٹرنیشنل ریلیشنز انسٹیٹیوٹ کے سربراہ الطاف جسین وانی نے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشل باچلیٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں گزشتہ 35 روز سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عوام پر مظالم کے حوالے سے ایک اقوام متحدہ کی چھت تلے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جائے۔وانی کا کہنا تھا کہ کشمیر 72 برسوں سے بھارت کے قبضے میں ہے اور کئی ہفتوں سے یہاں کے عوام کا دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہے۔بعض بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے کشمیر میں نسل کشی کیے جانے کا اتنباہ دینے کا اشارہ دینے والے وانی نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے لاکھوں کی تعداد میں فوجی متعین ہیں جو کہ کشمیری عوام کو اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے کی اجازت نہیں دے رہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے قرار داد منظور کرتے ہوئے کشمیری عوام کے مستقبل کا تعین کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

(ٹی آر ٹی)

SHARE

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here